Al-Risala · April 2008 · page 28

Osama's son wants to be a peacenik

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۲۸

بیسویں صدی عیسوی میں تاریخ کی دوسب سے بڑی جنگیں لڑی گئیں، پہلی عالمی جنگ، اور دوسری عالمی جنگ۔ ان جنگوں میں تقریباً 60 ملین انسان ہلاک ہوگئے۔ اس عظیم ہلاکت کے بعد انسان کا ضمیر عام طور پر جنگ کے خلاف ہو گیا۔ اس کے بعد جب دنیا میں عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) آگئے، تو یہ سمجھا جانے لگا کہ اب اس کا امکان ختم ہو گیا کہ جنگ کے ذریعے کوئی مثبت مقصد حاصل کیا جاسکے۔

اس عالمی پس منظر کا اثر مسلمانوں کی مسلح جدوجہد پر بھی پڑا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے مسلح جہاد کے نام پر اپنی جان اور اپنے مال کی جو قربانی دی ہے، وہ پوری تاریخ کی تمام قربانیوں سے بھی زیادہ ہے۔ اکیسویں صدی میں پہنچ کر مسلم دنیا میں یہ احساس عام ہو چکا ہے کہ مسلح جدوجہد اب مسلمانوں کے لیے کوئی قابلِ انتخاب چیز نہیں۔ اس پس منظر میں اسامہ بن لادن کے بیٹے کا مذکورہ اعلان گویا کہ پوری ملت کی طرف سے ایک نمائندہ اعلان ہے۔ اب تقریباً یقینی ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان جنگ اور تشدد کے راستے کو چھوڑ کر امن اور مفاہمت کا طریقہ اختیار کریں گے اور پھر اپنے مقصد کو زیادہ بہتر طور پر حاصل کر لیں گے۔

تیرھویں صدی عیسوی میں یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاری قبائل نے اُس زمانے کی عباسی سلطنت کو تباہ کر دیا اور مسلم دنیا کے اوپر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ مگر اس کے بعد صرف پچاس سال کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاریوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ جولوگ پہلے بظاہر اسلام کے دشمن بنے ہوئے تھے، وہ اب اسلام کے سپاہی بن گئے۔ اس حیرت ناک تاریخی واقعے کا اعتراف ایک مورّخ نے ان الفاظ میں کیا ہے ـــ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی، جہاں اُن کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے : The religion of Muslims have conquered, where their arms had failed. بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تاریخ دوبارہ دہرائی جانے والی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا عمل (process) بطور واقعہ شروع ہو چکا ہے۔ آج کل میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ ساری دنیا میں، خاص طور

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page