Al-Risala · April 2008 · page 29

Osama's son wants to be a peacenik

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹

مغربی ممالک میں، لوگ تیزی سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکا میں یہ تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بظاہر حالات، یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ عمل اب رکنے والا نہیں۔ اسلام کی یہ فکری اشاعت کوئی اتفاقی بات نہیں۔ وہ موجودہ زمانے کے حالات کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کے زیر اثر توہماتی طرزِ فکر کا خاتمہ ہوگیا۔ لوگ قدیم طرز کے تعصّباتی مزاج سے بلند ہو کر مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے لگے۔ جدید کمیونیکیشن نے اسلام کی معلومات کو ہر آدمی کے لیے قابلِ حصول بنادیا۔ موجودہ زمانہ جس کو گلوبلائزیشن کا زمانہ کہا جاتا ہے، وہ دراصل گلوبل انٹریکشن کا زمانہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مسلمان ساری دنیا کے لوگوں سے ملنے لگے، اور اس طرح انٹریکشن کے دوران اسلام کا پیغام عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچنے لگا، وغیرہ۔ اس طرح کے مختلف واقعات جو موجودہ زمانے میں پیش آئے، وہ سب کے سب اسلام کے لیے ایک موافق زمین بنانے کے ہم معنی تھے۔ ظاہری سطح پر خواہ کتنے ہی غیر موافق اسباب دکھائی دیتے ہوں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے جدید دنیا براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسلام کی موافقت میں تھی۔ جدید دنیا کا یہ مثبت پہلو اب بطور واقعہ دکھائی دینے لگا ہے۔ اسلامی دعوت اب خود تاریخی عمل (historical process) میں شامل ہو چکی ہے، اور جو فکر خود تاریخی عمل میں شامل ہو جائے، اُس کا اپنے آخری انجام تک پہنچنا اتنا ہی ممکن ہو جاتا ہے جتنا کہ رات کے بعد سورج کا نکلنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے جو مسلح جہاد شروع کیا، وہ اسلامی دعوت کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) بن گیا۔ مسلمانوں نے جن قوموں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا، وہ سب اسلامی دعوت کے اعتبار سے مدعو قومیں تھیں، یعنی مسلمان داعی تھے اور وہ مدعو۔ اسلامی دعوت کا تقاضا تھا کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں۔ کیوں کہ جب داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات ہوں، تو دعوت کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہتا ہے۔ اور جب داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات باقی نہ رہیں، تو دعوت کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی پوری کی پوری مسلمانوں کی طرف سے مدعو قوموں کے خلاف مسلح جہاد کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page