Osama's son wants to be a peacenik
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰
صدی تھی۔ یہ مسلح جہاد خدا کے منصوبے کے خلاف تھا، اس لیے وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اب جان و مال کی تباہی کے بعد مسلمان مجبور ہو چکے ہیں کہ وہ مسلح جہاد کے اس عمل کو چھوڑ دیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب عملاً اس کا آغاز ہو چکا ہے۔
غیر مطلوب مسلح جہاد کا ختم ہونا، اپنے آپ میں دعوتی عمل کا آغاز ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب حالات معتدل ہو جائیں تو لوگ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اسلام کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں، اور عین اپنی فطرت کے مطابق پا کر اس کو اختیار کر لیتے ہیں۔ بیسویں صدی اگر غیر مطلوب مسلح جہاد کی صدی تھی، تو اکیسویں صدی مطلوب دعوت کی صدی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، تشدد کا خاتمہ اور امن کا آغاز اہل اسلام کے لیے فتح مبین (الفتح: 1) کی حیثیت رکھتا ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کی ترقی اپنے آپ اسلامی دعوت کا ذریعہ بن گئی ہے۔ خلیجی جنگ (1991) کے دوران امریکا کے فوجی بڑی تعداد میں مصر اور عرب ملکوں میں گئے۔ ان کا انٹریکشن مسلمانوں سے ہو۔ اس دوران تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ موجودہ زمانے میں ہر جگہ ہو رہا ہے۔ فی الحال یہ واقعہ زیادہ تر اپنے آپ ہو رہا ہے۔ اس عمل میں ماڈرن کمیونیکیشن عملاً دعوت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
گویا کہ ماڈرن کمیونیکیشن کے زمانے میں دعوت کا کام خود تاریخی عمل (historical process) کا حصہ بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس تاریخی عمل میں اپنے آپ کو شامل کر دیں۔ تا کہ جو کام اپنے آپ ہو رہا ہے، وہ مزید شدت کے ساتھ براہ راست کوشش کے ذریعے ہونے لگے۔ اور دعوت کا قافلہ بہت جلد اپنی مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔ یہ مطلوب منزل، حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ اسلام کا کلمہ روئے زمین کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں داخل ہو جائے، کوئی بھی عورت یا مرد خدائی پیغام سے بے خبر نہ رہے (لايبقى علی وجه الأرض بيت مدر ولا وبر، إلا أدخله الله كلمة الإسلام)۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues