Al-Risala · April 2008 · page 38

Simple living, high thinking

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۳۸

سوال و جواب سوال آج کل گراس روٹ (grassroots) کا بہت چرچا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گراس روٹ سے کام کرنے کا طریقہ ٹھوس طریقہ ہے۔ یہی اصلاحی کام کا زیادہ صحیح طریقہ ہے۔ لیکن آپ کا طریقہ بظاہر اس سے مختلف نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ گراس روٹ لیول (grassroot level) سے کام کرنے کو زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔ ایسا کیوں ہے، اور اس معاملے کی حقیقت کیا ہے۔ (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی)

جواب

گراس روٹ لیول سے کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی سطح سے کام کیا جائے، یعنی اصلاحی کام کا آغاز گاؤں سے کرنا، یا غریب بستیوں سے کرنا، یا بے پڑھے لکھے عوام سے کرنا۔ اس طریق کار میں کچھ فائدے ضرور ہیں، لیکن یہ کام کا زیادہ نتیجہ خیز طریقہ نہیں۔ نچلی سطح کے لوگوں کو گراس روٹ سمجھنا، ایک غلط مفروضہ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ گراس روٹ انسان کا ذہن ہے، یعنی انسان کی سوچنے کی صلاحیت کا مرکز۔

مذکورہ مفروضے کے مطابق، بہت سے بڑے بڑے لوگوں نے گراس روٹ سے کام کیا ہے، مگر اُن کے اپنے نشانے کے مطابق، ان کے کام کا کوئی بڑا نتیجہ نہیں نکلا۔ مثال کے طور پر مدر ٹریسا (وفات: 1997) کا نام اس معاملے میں بہت زیادہ مشہور ہے، لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ ان کی موت روحانی کرب (agony) کے عالم میں ہوئی۔ آخر وقت میں وہ اپنے کام سے غیر مطمئن تھیں۔ کیوں کہ جس نشانے کو سامنے رکھ کر انھوں نے کام شروع کیا تھا، وہ نشانہ ان کو حاصل نہیں ہو سکا۔ یہی حال اُن تمام بڑے بڑے مصلحین (reformers) کا ہے۔ جنھوں نے اپنے خیال کے مطابق، مفروضہ گراس روٹ سے کام شروع کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page