Al-Risala · April 2008 · page 39

Simple living, high thinking

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۳۹

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے تمام اعمال کا مصدر اور منبع اس کا ذہن (mind) ہے۔ آدمی جیسا اپنے ذہن سے سوچتا ہے، ویسا ہی وہ عمل کرتا ہے۔ اس لیے آدمی کا ذہن (mind) انسانی زندگی میں گراس روٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی بات فطری نقشے کے مطابق ہے۔ ہم اپنا کام اسی فطری نقشے کے بنیاد پر کر رہے ہیں۔ ہم انسان کے ذہن کو تمام انسانی اعمال کے لیے گراس روٹ سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہماری تمام کوشش یہ ہے کہ انسان کا ذہن بدلے، انسان کی سوچ بدلے، انسان کے اندر صحیح طرزِ فکر پیدا ہو۔ سوچ بدلے گی تو زندگی بدلے گی، اور اگر سوچ نہ بدلے تو کچھ بھی بدلنے والا نہیں۔ سوال عام طور پر یہ سمجھتا ہے کہ شادی یا نکاح کے معاملے میں اسلام کا طریقہ ارینجڈ میریج (arranged marriage) کا طریقہ ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں اس طریقے کو روایتی (traditional) طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں کا یہ خیال ہے کہ شادی یا نکاح زندگی کا ایک بے حد اہم معاملہ ہے، اس لیے نو جوان لڑکوں اور لڑکیوں کا یہ ماننا ہے کہ انھیں اس معاملے کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔ اس دوسرے طریقے کو عام طور پر لو میریج (love marriage) کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں (رابعہ، کرناٹک)۔ جواب موجودہ دنیا عقل کا امتحان ہے۔ جو آدمی سوچ سمجھ کر کام کرے گا، وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص محض جذبات کے تحت کام کرے گا، وہ ناکام ہوگا۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے، شادی کو میریج کا نام نہیں۔ لو افیئر (love affair) یا لو میریج کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ صرف سطحی جذباتیت کا خوب صورت نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی یا نکاح اپنے لیے ایک لائف پارٹنر حاصل کرنے کا نام ہے۔ زوجین کو چاہیے کہ وہ نکاح کے معاملے کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھیں۔ اس معاملے میں وہ جذباتی مغلوبیت کے تحت کوئی کام نہ کریں، بلکہ خالص عقلی فیصلے کے تحت کام کریں۔ لو افیئر یا لو میریج صرف وقتی جذباتیت کا نتیجہ ہوتی ہے، جب کہ نکاح کا تعلق عورت یا مرد کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page