sight, touch, taste, smell and hearing
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸
شروع ہوتی ہے اور اپنے اسی اسلوب میں وہ آخر وقت تک جاری رہتی ہے۔
دعوت الی اللہ کا کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی کام ہے، جس کو بندوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کو اسی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اس اسپرٹ کے بغیر جو کام کیا جائے وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ ہوگا، خواہ اس کو دعوت الی اللہ کے نام پر جاری کیا گیا ہو۔ دعوت الی اللہ نہ سیاست کی طرف بلانے کا کام ہے اور نہ قومی مسائل کی طرف بلانا اس کا نشانہ ہے۔ یہ مکمل طور پر خدا کی طرف بلانے کا ایک کام ہے اور اسی خاص صورت میں اس کو ادا کیا جانا چاہیے۔
خدا کی طرف بلانے سے کیا مراد ہے۔ اس کا ابتدائی مقصد یہ ہے کہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کیا جائے۔ اس کو بتایا جائے کہ خدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے اور خدا آئندہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ یہ گویا انسان کو خدا سے متعارف کرنے کا ایک کام ہے۔ اس کا نشانہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کی غفلت ٹوٹے، اور وہ اپنی بندگی کا ادراک کر کے خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔
اس دعوتی عمل کا نشانہ یہ ہے کہ انسان خدا کی ذات کو پہچانے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلے میں اپنے عجز کو دریافت کرے ۔ غیب کا پردہ پھاڑے جانے سے پہلے وہ خدا کا مشاہدہ کرے۔ خدا سے براہ راست سابقہ پیش آنے سے پہلے وہ بالواسطہ طور پر خدا کی معرفت حاصل کرے۔ دعوت کا مقصد انسان کے اندر سوئی ہوئی روح کو جگانا ہے۔ بھٹکے ہوئے انسان کو، خدا کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر کھڑا کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اُس بصیرت کو جگایا جائے جو کائنات کی نشانیوں میں خدا کے جلوؤں کو دیکھنے لگے۔ جو مخلوقات کے آئینے میں اس کے خالق کو بلا حجاب پالے۔
دعوت ایک انسان کو اس قابل بنانے کا نام ہے کہ وہ براہ راست اپنے رب سے مربوط ہو جائے۔ اس کو روحانی سطح پر خدا کا فیضان پہنچنے لگے۔ اس کے دل و دماغ خدا کے نور سے منور ہو جائیں۔ اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues