Simple living, high thinking
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۴۰
پوری زندگی سے ہوتا ہے۔ اس معاملے میں دانش مندانہ فیصلہ ہمیشہ کئے لیے آدمی کی زندگی کو خوش گوار بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جذباتی فیصلہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی کو تلخ بنا دیتا ہے۔ اس دنیا میں عقلی فیصلے کا نتیجہ کامیابی ہے اور جذباتی بہاؤ کا نتیجہ ناکامی۔
سوال
ایک دینی حلقے سے جڑے ہوئے لوگوں کے درمیان تدبر قرآن اور فہم قرآن کی باتیں ممنوع قرار دے دی گئی ہیں۔ ان کے نزدیک عوام کے لیے قرآن صرف تلاوت کی شے ہے، تدبر قرآن اور فہم قرآن صرف علماء کا حق ہے۔ ان دنوں عوام کو قرآن فہمی سے روکنے کے لیے ان حضرات کے ذریعے ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ’’ صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ ہم نے پہلے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا (تعلمنا الإيمان، ثم تعلمنا القرآن)‘‘۔ پھر اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ایمان کو پختہ کے بغیر قرآن فہمی کی کوشش گم راہی کا سبب بن سکتی ہے۔ جب اللہ تعالی خود قرآن میں تدبر کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس قسم کی حدیثوں کی حقیقت کیا ہے۔ آخر یہ حضرات عوام کو قرآن سے دور کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔ مہربانی فرما کر اس مسئلے میں ہم لوگوں کی رہ نمائی کریں، شکریہ (محمد خورشید اکرم سوز، کیلاش نگر، مہاراشٹر)۔
جواب
آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے، وہ صحیح اسناد سے ثابت ہے۔ لیکن صحابی کے اس قول کی وہ تشریح درست نہیں جس کو آپ نے کچھ لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔ صحابی کے اس قول میں ایمان سے مراد معرفت ہے، اور قرآن سے مراد شریعت۔ یہ بالکل درست ہے کہ اسلام میں پہلا دعوتی عمل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر معرفت پیدا کی جائے، یعنی لوگوں کی سوچ کو بدلا جائے، لوگوں کو ذہنی اعتبار سے تیار کیا جائے۔ اس ذہنی تیاری کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ لوگ اسلام کے عملی احکام کو اپنی زندگی میں اختیار کریں۔
تاہم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ معرفت کا حصول کا ذریعہ بھی قرآن ہی ہے۔ کوئی اور خود ساختہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues