Al-Risala · April 2008 · page 41

Simple living, high thinking

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱

طریقہ نہیں ۔ قرآن ہی کی رہ نمائی میں یہ کیا جائے گا کہ لوگوں کو بدلا جائے ۔ لوگوں کے اندر معرفت پیدا کی جائے جس کو ایمان کہا گیا ہے ۔ قرآن سے باہر معرفت کے حصول کا کوئی اور طریقہ وضع کرنا ایک بدعت ہے ، اور بدعت سے کبھی کوئی بہتر نتیجہ نہیں نکل سکتا ۔

’تذکیر القرآن‘ اسی اصول پر لکھی گئی ہے ۔ تذکیر القرآن میں قرآن کے اُن پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے جو معرفت یا شعورِ ایمان کو پیدا کرنے والے ہیں ۔ تذکیر القرآن کے جس صفحے کو بھی آپ کھولیں ، آپ یہ حکمت اس کے اندر پائیں گے ۔ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ تذکیر القرآن کے ذریعے لوگوں کے اندر شعورِ ایمان پیدا کیا جائے ۔ شعورِ ایمان کا پیدا ہونا گویا کہ استعداد کا پیدا ہونا ہے ۔ اور جب استعداد پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خود ہی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ شریعت کے عملی احکام کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں ۔

سوال

اسلامی شریعت کے مطابق ، یہ مسئلہ بتایا جاتا ہے کہ قیامت کے دن خدا ظاہر ہوگا ۔ وہ اچھے لوگوں کو جنت میں جگہ دے گا اور برے لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گا ۔ بہت سے لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا تو ارحم الراحمین ہے ، پھر خدا رحمت والا خدا ہونے کے باوجود کیوں لوگوں کو ابدی جہنم میں داخل کرے گا ( رجت ملہوترا، نئی دہلی ) ۔

جواب

قیامت کے جزا اور سزا کا تعلق رحمت سے نہیں ہے ، بلکہ عدل سے ہے ۔ یہ خدا کے عدل کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے عمل کے مطابق ، جزا یا سزا دے ۔

قیامت میں جن لوگوں کے لیے جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا ، وہ ان کے اندھے پن کی بنا پر ہوگا ۔ کیوں کہ انھوں نے نعمتوں کا بھرپور استعمال کیا ، لیکن انھوں نے منعم کا اعتراف نہیں کیا ۔ خدا نے ان کو اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ، لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ پیدا کرنے والا کون ہے ۔ خدا نے اُن کو سیارهٔ ارض (planet earth) جیسی جگہ رہنے کے لیے دی ، لیکن

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page