Al-Risala · January 2008 · page 19

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹

پورا وجود خدا کی رحمت کی بارش میں نہا اٹھے۔

دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ آدمی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی مخلوق بن جائے، وہ دنیا کی عظمتوں میں خدا کی عظمت دریافت کرے، وہ دنیا کی نعمتوں میں جنت کی نعمتوں کا تجربہ کرنے لگے۔ دنیا کی تکلیفیں اس کو جہنم کی تکلیف یاد دلائیں ۔ دنیا کے مناظر اس کو آخرت کی حقیقتوں کا مشاہدہ کرانے لگیں۔ یہی دعوت کا نشانہ ہے اور ایسے ہی انسانوں کو وجود میں لانا دعوت اور داعی کی کامیابی ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو ’احسن تقویم‘ کی صورت میں پیدا کیا۔ پھر اس کو گرا کر ’اسفل سافلین‘ میں ڈال دیا (التین: 5-4)۔ دعوتی عمل کا مقصد انسان کو دوبارہ اس کی اصل ابتدائی حالت کی طرف لوٹانا ہے، جنت سے نکالے جانے کے بعد دوبارہ اُس کو جنت کے راستے پر ڈالنا ہے، خدا کی رحمت سے دور ہونے والوں کو دوبارہ خدا کی رحمت کے سائے میں پہنچا دینا ہے۔ انسان کی مثال ایسی ہے جیسے پانی کی ایک مچھلی جس کو پانی سے نکال کر صحرا میں ڈال دیا جائے۔ ایسی مچھلی صحرا میں مسلسل تڑپ رہی ہوگی۔ اور اس کے ساتھ بہترین ہمدردی یہ ہوگی کہ اس کو دوبارہ پانی کی طرف لوٹا دیا جائے۔

انسان بھی اسی طرح جنت کی ایک مخلوق ہے۔ اس کے اندر ایک نامعلوم آئیڈیل کو پانے کا جذبہ بے پناہ حد تک پایا جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اس نامعلوم آئیڈیل کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ وہ بار بار دنیوی رونق والی کسی چیز کی طرف لپکتا ہے، اس امید میں کہ وہ جس آئیڈیل کی تلاش میں ہے وہ شاید یہی ہے، مگر ہر بار اسے ناکامی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے بغیر اس کے کہ اس نے اپنے آئیڈیل کو پایا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں داعی کو اپنا دعوتی عمل انجام دینا ہے۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ جس آئیڈیل کی تلاش میں ہے، وہ صرف خدا اور اس کی جنت ہے۔ یہ صرف خدا ہے جس کو پا کر آدمی اپنے آئیڈیل کو پالے۔ یہ صرف جنت ہے جہاں پہنچ کر آدمی اس اطمینان سے دوچار ہو کہ وہ جس دنیا کی تلاش میں تھادہ دنیا سے حاصل ہوگئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page