Al-Risala · May 2008 · page 10

I have not been sent to you for this purpose.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۰

چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنے اوپر بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں (ان تريد مُلْكا، مُلْكَناك علينا) آپ نے جواب دیا کہ نہیں (ما أطلب الملك عليكم) ۔ میں اس کام کے لیے تمھارے پاس نہیں بھیجا گیا ہوں (ما بهذا بُعثْت إليكم) :

I have not been sent to you for this purpose.

اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا نشانہ، سیاسی اقتدار نہیں تھا۔ پھر آپ کا نشانہ کیا تھا۔ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس کا جواب ہے: يأيها المدثر، قُم فأنذر (المدثر : اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ کا نشانہ انذار تھا، یعنی خدا کے تخلیقی پلان سے انسان کو آگاہ کرنا۔ سیرت رسول کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی کا محور یہی دعوتی نشانہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایک غیر سیاسی نشانہ ہے۔ اُس کو خالص غیر سیاسی انداز میں اور پوری طرح پر امن طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا یہ فکر ایک عرصے تک امت میں رہا، پھر دھیرے دھیرے اس میں انحراف آ گیا، یہاں تک کہ غیر سیاسی اسلام بدل کر سیاسی اسلام بن گیا۔ موجودہ زمانے میں ہم اس انحراف کی آخری صورت دیکھ رہے ہیں۔

اس معاملے کو مزید سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت، الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: عن عائشة قالت : سأل رجلُ النبي صلى الله عليه وسلم، أىّ الناس خير۔ قال : القرن الذي أنا فيه، ثم الثانی، ثم الثالث۔ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بہتر لوگ کون ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ دَور جس کے اندر میں ہوں۔ اس کے بعد دوسرا دَور، اور اس کے بعد تیسرا دور (صحیح مسلم، فضائل الصحابة)۔

یہ تین دور امت میں قرون مشہود لہا بالخیر تسلیم کیے گئے ہیں۔ پہلا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ہے، دوسرا دور صحابہ کا دور ہے، اور تیسرا دور تابعین کا دور۔ ان تین دوروں کو عہد رسالت،

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page