Al-Risala · May 2008 · page 11

I have not been sent to you for this purpose.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱

عہدِ خلافت راشدہ اور عہدِ بنوامیہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ان تینوں دوروں کی تاریخی ترتیب یہ ہے: 1- عہدِ رسالت: 632-610ء 2- عہدِ خلافت راشدہ: 661-632ء 3- عہدِ بنوامیہ: 750-661ء 4- عہدِ بنوعباس: 750-1258ء پہلے تینوں دور میں عربوں کا غلبہ تھا۔ عرب لوگ وہ تھے جن کو براہِ راست پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت ملی تھی اور اُن کوکم وپیش آپ کی تربیت حاصل ہوئی، لیکن چوتھے دور میں مسلم سماج اور مسلم تنظیمات پر ایرانیوں کا غلبہ ہو گیا۔ ایرانی وہ لوگ تھے جنھوں نے براہِ راست پیغمبرِ اسلام سے تربیت حاصل نہیں کی تھی ، یہی عباسی دور، جس میں ایرانیوں کا غلبہ ہو گیا تھا، اسی دور میں تمام فکری انحرافات شروع ہوئے، اور ان کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

وہ تمام کتابیں جن کو اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے، وہ تقریباً سب کی سب اس عباسی دور میں تیار کی گئیں۔ اس دور میں اسلام ،کم و بیش، ایک پولیٹکل اسلام بن چکا تھا۔ دعوت کا عمل اب بھی خود اپنی طاقت پر جاری تھا، لیکن فکری اعتبار سے دعوت کا تصور تقریباً غیر موجود ہو گیا تھا۔ اس کا اثر بعد کی تمام کتابوں پر پڑا۔ مثلاً قرآن کو آپ کسی تفسیر کے بغیر پڑھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ قرآن مکمل طور پر ایک دعوتی کتاب ہے۔ ایک عالم کے الفاظ میں ، قرآن انذار اور تبشیر کی سرگذشت ہے، لیکن اگر آپ قرآن کی تفسیروں کو پڑھیں تو آپ کے ذہن میں یہ نقشہ بالکل بدل جائے گا۔ مثلاً دعوت کا پہلو قرآن کا سب سے اہم پہلو ہے، لیکن تمام تفسیروں میں قرآن کا یہی پہلو گم ہو گیا ہے۔ مثلاً صبر، اعراض اور تالیف قلب دعوت کے اہم اجزا ہیں، لیکن قرآن کی موجودہ تفسیروں میں ان دعوتی اجزا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جہاد کی آیتیں اترنے کے بعد یہ چیزیں منسوخ ہو گئیں۔

یہی معاملہ حدیث کے ساتھ پیش آیا۔ حدیث حقیقت میں ایک پیغمبرِ داعی کا کلام ہے۔ حدیث میں دعوت کے تمام اجزا موجود ہیں، لیکن ذہنی شاکلہ بدل جانے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ علماء نے حدیث

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page