Al-Risala · January 2008 · page 20

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰

اس اعتبار سے ہر انسان داعی کا نشانہ ہے۔ داعی کو ہر فرد تک پہنچنا ہے۔ اسے ہر آنکھ پر پڑے ہوئے پردے کو ہٹانا ہے۔ گویا دنیا میں اگر چھے بلین انسان ہیں تو داعی کو چھے بلین کام کرنا ہے۔ اسے چھے بلین روحوں کو ان کے خدا سے ملانا ہے۔ اسے چھے بلین انسانوں کو ان کے جنتی قیام گاہ تک پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔

اسی معلمِ انسانیت کا نام داعی ہے۔ داعی وہ ہے جو زندگی کے راستوں پر روشنی کا مینار بن کر کھڑا ہو جائے، جو انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کے لیے خدائی رہنما بن جائے۔ قرآن کی سورہ نمبر 51 میں پیغمبر کی زبان سے کہا گیا ہے کہ: ففرّوا الى الله إنّى لكم منه نذير مبين (الذاريات: 50)۔ یعنی اے لوگو! اللہ کی طرف دوڑو، میں اس کی طرف سے تمھارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اسی بات کو دوسری جگہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اعبدوا الله واجتنبوا الطَّاغوت (النحل: 36) یعنی اے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ اس دنیا میں انسان دو پکاروں کے درمیان ہے۔ ایک، خدا کی پکار اور دوسرے، شیطان (طاغوت) کی پکار۔ خدا خیر کا سرچشمہ ہے اور وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلا رہا ہے۔ اس کے برعکس، شیطان شر کا سرچشمہ ہے۔ وہ لوگوں کو شر کے راستوں کی طرف بلاتا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب میں نہ آئے اور شیطان کو چھوڑ کر وہ خدا کی طرف دوڑپڑے۔

خدا تمام صفاتِ کمال کا جامع ہے۔ وہ عدل، رحمت، سچائی، دیانت داری اور اخلاص کو پسند کرتا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ انسان انھیں اعلیٰ اوصاف کو اپنائے ۔ وہ اپنے آپ کو خدائی اخلاقیات میں ڈھال لے۔

اس کے برعکس، شیطان برائیوں کا مجموعہ ہے اور وہ انسان کو بھی برائیوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ شیطان، آدمی کے اندر چھپے ہوئے بدی کے جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر حسد، انانیت، غصہ، انتقام، تکبّر، خود غرضی اور بے اعترافی جیسے جذبات کو جگا کر انسان کی انسانیت کو دبا تا ہے اور اس کی حیوانیت کو جگا کر اس کو اپنے جیسا بنا دینا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page