مواقع کی دنیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸
عظیم ہاشم پریم جی کے اس واقعے پر غور کیجیے تو اس سے ایک بہت بڑی حقیقت کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ انفرادی واقعہ ایک عالمی قانون کو بتا رہا ہے۔ وہ یہ کہ یہ دنیا مواقع (opportunities) کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں ختم نہیں ہوتے۔ کوئی بھی شخص یا گروہ اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ فطرت کے اس قانون کو بدل سکے، یا وہ اس قانون کو منسوخ کر دے۔ یہ فطرت کا ایک ابدی قانون ہے۔ وہ قرآن کی آیت کے مطابق، لا تبديل لخلق الله (الروم: 30) کے عمومی حکم میں شامل ہے۔ عظیم ہاشم پریم جی نے اپنے انٹرویو میں اسی حقیقت کو اپنے لفظوں میں اس طرح بیان کیا ہے۔ —اس قسم کی کامیابی بتاتی ہے کہ گلوبلائزیشن دو طرفہ ٹریفک کا معاملہ ہے، یعنی اُس کا فائدہ ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ، زیر ترقی ممالک کو بھی پہنچ رہا ہے:
Such success shows globalization is turning into "two-way traffic" that can bring tangible benefits to develping countries. موجودہ زمانے کے مسلم رہ نما اور مفکرین ایک مشترک غلطی کا شکار ہوئے۔ انھوں نے قدیم زمانے کی اصطلاحوں میں جدید زمانے کو سمجھنا چاہا، اس بنا پر وہ دورِ جدید کی نوعیت کو سمجھنے میں مکمل طور پر نا کام رہے۔ انھوں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو غلط رہ نمائی دی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے تمام مسائل اسی غلط رہ نمائی کا نتیجہ ہیں، جن کو غیر واقعی طور پر اغیار کی سازش کہا جاتا ہے۔ مومن کی ایک صفت حدیثِ رسول میں یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے زمانے کا جاننے والا ہوتا ہے (أن يكون بصيراً بزمانه)۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہ نما بصیرتِ زمانہ کا ثبوت نہ دے سکے، اس کے باوجود انھوں نے مسلمانوں کورہ نمائی دینے کی کوشش کی جو بلا شبہہ درست نہ تھی۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس معاملے میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے اور از سرِ نو اپنے معاملے کی صحیح منصوبہ بندی کی جائے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھیے تو موجودہ زمانے میں مسلم مسائل کا آغاز اُس دور سے ہوتا ہے جس کو عام طور پر نو آبادیاتی دور کہا جاتا ہے۔ بعض مبصرین نے اس دورِ زوال کے آغاز کا تعین 1799 کیا ہے۔ اِن کے