مواقع کی دنیا
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹
خیال کے مطابق، 1799 وہ سال تھا جب کہ مسلمانوں کا دور عروج ختم ہوکر اُن کا دور زوال شروع ہو گیا۔ اس تاریخ کے تعین میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اصل واقعے کے بارے میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔ قدیم نو آبادیاتی دور کو ہمارے رہ نما یورپین امپیریل ازم (European emperialism) کا نام دیتے ہیں اور بیسویں صدی کے نصف آخر میں امریکا کے عروج سے جو صورت حال پیدا ہوئی، اُس کو امریکی ایمپیریل ازم (American emperialism) کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں غلط تسمیہ (wrong nomenclature) کا کیس ہے، اور یہ غلط تسمیہ اس لیے وجود میں آیا کہ لوگ زمانی بصیرت کی روشنی میں اس معاملے کو نہ دیکھ سکے۔
میں کہوں گا کہ ایمپیریل ازم زرعی دورِ سیاست کی اصطلاح ہے، آج کے حالات کے مطابق یہ اصطلاحیں منطبق نہیں ہوتیں۔ قدیم زمانے میں اس طرح کے واقعات توسیع بادشاہت کے ہم معنی ہوتے تھے، مگر موجودہ زمانے میں اس طرح کے واقعات توسیع مواقع کے ہم معنی ہیں۔ قدیم زمانے کی توسیع بادشاہت اصلاً یک طرفہ فوائد کے حصول کے لیے ہوا کرتی تھی، مگر موجودہ زمانے میں یہ توسیع، فوائد میں دوطرفہ حصے دار بننے کے لیے ہوتی ہے۔
اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ جدید صورت حال کو بتانے کے لیے ایمپیریل ازم زیادہ صحیح لفظ نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے زیادہ صحیح لفظ گلوبلائزیشن (globalization) ہے۔ یورپی نو آبادیات کا دور گویا کہ منی گلوبلائزیشن (mini-globalization) کا دور تھا، اور نام نہاد امریکی ایمپیریل ازم کا دور سپر گلوبلائزیشن (super globalization) کا دور ہے۔ قدیم ایمپیریل ازم زیادہ تر یک طرفہ فائدے کے لیے ہوتا تھا، مگر جدید گلوبلائزیشن دوطرفہ فائدے کے اصول پر مبنی ہے۔ مثالوں کے ذریعے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
قدیم ایمپیریل ازم کے زمانے میں بادشاہ لوگ بڑے بڑے قلعے اور بڑے بڑے محل بناتے تھے، وہ شاہانہ شخصیتوں کے بڑے بڑے مقبرے تعمیر کرتے تھے۔ اس قسم کی چیزوں سے عملاً صرف شاہانہ طبقے کے لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا، عوام کا اُس میں کوئی قابلِ ذکر حصہ نہ تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں