Al-Risala · May 2008 · page 20

مواقع کی دنیا

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰

گلوبلائزیشن کے تحت جو کام کیے جاتے ہیں، اُن کا فائدہ دونوں طبقوں کو مشترک طور پر پہنچتا ہے۔ مثال کے طور پر یورپی نو آبادیات کے زمانے میں وسیع پیمانے پر انڈیا میں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ ہمارے لیڈروں نے اِس ریلوے لائن کو لوہے کی غلامانہ زنجیر بتایا، مگر یہ بلاشبہ مبالغہ تھا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اِس ریلوے لائن سے ایک طرف برطانی حکم رانوں کو یہ فائدہ ملا کہ وہ اپنے فوجیوں اور اپنے سامان تجارت کو ایک حصّے سے دوسری طرف منتقل کر سکتے تھے۔ لیکن دوسری طرف، ملکی باشندوں کو اِس سے یہ فائدہ ملا کہ اُن کے لیے ملک میں، ہر طرف سفر کرنا آسان ہو گیا۔ اِس سفری سہولت سے ملکی باشندوں کو عظیم فائدے حاصل ہوئے۔

یہی معاملہ موجودہ گلوبلائزیشن کا ہے۔ اِس گلوبلائزیشن کے زمانے میں غیر ملکی کمپنیوں نے، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، موبائل کی انڈسٹری قائم کی۔ اِس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ غیر ملکی تجارتی اداروں کو مالی فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ لیکن دوسری طرف، ملک کے باشندوں کو تاریخ میں پہلی بار ٹیلی کمیونکیشن (tele-communication) کا ذریعہ حاصل ہو گیا۔ اِس کے نتیجے میں لوگوں کے کاروبار بہت زیادہ پھیل گئے۔ تجارتی فوائد کی یہ توسیع ہمارے ملک کے لیے ایک ایسی روں کے بار بار ہدایت رہارہا ہے ۔ باراں میں یہ نعمت ثابت ہوئی جو اس سے پہلے کبھی اُنھیں حاصل نہ تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page