Al-Risala · May 2008 · page 21

موت سے بے خبری وں

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱

موت سے بے خبری وں

میں آل انڈیا ریڈیو سن رہا تھا۔ اس پر ایک انڈین رائٹر کا ریکارڈ کیا ہوا انٹرویو آ رہا تھا۔ چند مہینے پہلے اس رائٹر کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس کی موت کے بعد جب میں نے دوبارہ ریڈیو پر اس کی آواز سنی، تو اچانک ایسا محسوس ہوا کہ وہ رائٹر پہلے موجودہ دنیا میں بول رہا تھا، اب وہ دوسری دنیا میں چلا گیا ہے اور وہاں سے بول رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں ریکارڈ کی ہوئی آواز کی علامتی طور پر اس حقیقت کا مظاہرہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی عمر کے ایک دُور سے نکل کر، اپنی عمر کے دوسرے دور میں پہنچ جاتا ہے۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ علمِ انسانی کے تمام شعبے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ موت کے بعد انسان ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی نہ کسی صورت میں دوبارہ زندگی پالیتا ہے۔ مثلاً حیاتیاتی سائنس کے جدید مطالعے کے مطابق، انسان کا جسم ایک سو ٹریلین سے زیادہ سیل (cells) کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہ سیل مسلسل ٹوٹتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے سیل آتے رہتے ہیں۔ جسم کے اندر یہ عمل مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ گویا کہ انسان جسمانی اعتبار سے ہر چند سال کے بعد مر جاتا ہے اور دوبارہ زندگی پالیتا ہے۔ بار بار کی جسمانی موت کے باوجود انسان کی شخصیت (personality) بدستور قائم رہتی ہے۔ مثلاً انسان کا حافظہ (memory) جیسے پہلے تھا، ویسا ہی وہ بعد کو باقی رہتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جسم کسی انسان کی صرف ایک سواری (vehicle) ہے۔ سواری بدل جاتی ہے، لیکن انسان کی شخصیت بدستور اپنی اصل حالت پر باقی رہتی ہے۔ اس حقیقت کو حیاتیات کے ایک مغربی عالم نے ان الفاظ میں بیان کیا:

Personality is changelessness in change.

ایسی حالت میں انسان پر موت کا وارد ہونا، صرف یہ معنی رکھتا ہے کہ انسان سفر کر کے موجودہ دنیا سے ایک اور دنیا میں پہنچ گیا۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو انسان کو موت کے بارے میں بہت زیادہ سوچنا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page