sight, touch, taste, smell and hearing
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱
موجودہ دنیا میں ہر آدمی اسی دو طرفہ تقاضے کے درمیان ہے۔ ہر آدمی ایک داخلی جنگ کے محاذ پر کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف اس کا ضمیر ہے جو اس کو خدا کی طرف کھینچتا ہے۔ دوسری طرف اس کی انانیت ہے جو اس کو دھکیل کر شیطان کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ ضمیر خدا کا نمائندہ ہے اور انانیت شیطان کی نمائندہ۔
داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ انسان کے اندر ذہنی بیداری لا کر اس کو اس قابل بنائے کہ وہ اس دو طرفہ تقاضے کو پہچانے۔ وہ اپنی انانیت پر روک لگائے اور ضمیر کی آواز کو تقویت دے۔ وہ شیطان کی ترغیبات سے بچ کر خدا کے اُس راستے کا مسافر بن جائے جو اس کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ یہ دعوتی کام زمین پر ہونے والے تمام کاموں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ پیغمبروں والا کام ہے۔ جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں، اُن کو نہایت خصوصی انعامات سے نوازا جائے گا۔
قرآن کی سورہ نمبر 7 میں اصحابِ اعراف کا ذکر ہے، یعنی بلندیوں والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اونچے منبروں پر کھڑے کیے جائیں گے۔ اور اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ دونوں کے بارے میں خدا کے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے:
”اور اعراف کے اوپر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے۔ اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ امیدوار ہوں گے۔ اور جب دوزخ والوں کی طرف ان کی نگاہ پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کو شامل نہ کرنا ان ظالم لوگوں کے ساتھ۔ اور اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جنھیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ تمھارے کام نہ آئی تمھاری جماعت اور تمھارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو کبھی اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی۔ جنت میں داخل ہو جاؤ، اب نہ تم پر کوئی ڈر ہے اور نہ تم غم گین ہوگے۔ “ (الأعراف: 49-46)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues