Personality is changelessness in change.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۲
چاہیے، بلکہ اُس کو سب سے زیادہ موت ہی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ کیوں کہ موت ایک نئی دنیا کی طرف چھلانگ ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ انسان، موت کے بعد کے صورتِ حال کے لیے تیاری کرے ۔ اس کی سوچ ہر اعتبار سے موت رُخی سوچ (death-oriented thinking) بن جائے۔ موت کسی آدمی کے لیے سب سے زیادہ یقینی واقعے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر آدمی کو بار بار موت کی یاددہانی کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ ہر آدمی اپنے گھر میں اور اپنے قریبی ماحول میں لوگوں کی موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، مگر عملاً ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص موت کو لے کر نہیں سوچتا۔ ہر آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے، جیسے اُس کو مرنا نہیں ہے، بلکہ اس کو ہمیشہ کے لیے اسی دنیا میں زندہ رہنا ہے۔ پوری تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص نہ مرے۔ اس کے باوجود انسان موت کے واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ وہ موت کی حقیقت کا اعتراف صرف اُس وقت کرتا ہے، جب کہ خود اُس پر موت آجائے۔ اور مجبورانہ فیصلے کے تحت وہ موت کے دروازے میں داخل ہو جائے۔
ایک آدمی جب سفر کرتا ہے، خواہ اُس کا سفر ٹرین سے ہو، یا کار سے ہو، یا ہوائی جہاز سے ہو، تو وہ اس سوچ کے تحت سفر کرتا ہے کہ چند گھنٹے کے بعد اُس کا سفر ختم ہو جائے گا اور وہ ایک نئے مقام پر پہنچ جائے گا۔ اس مقصد کے تحت وہ اپنے سفر کی تیاری کرتا ہے۔ وسیع تر معنوں میں انسان کا معاملہ بھی ایک سفر کا معاملہ ہے۔ ہر انسان زندگی سے موت کی طرف سفر کر رہا ہے، لیکن کوئی بھی شخص اس دوسرے سفر کے معاملے میں موت کو لے کر نہیں سوچتا۔ ہر آدمی اس طرح اپنی زندگی کا سفر طے کر رہا ہے جیسے کہ یہی سفر اُس کے لیے ابدی سفر ہے، وہ اسی موجودہ صورت میں ہمیشہ باقی رہے گا۔
میرا آبائی وطن اعظم گڑھ (یوپی) ہے۔ آزادیٔ ہند سے پہلے کے دور میں وہاں ایک راجا ہرکھ چند تھے۔ انھوں نے شہر کے مین روڈ پر اپنے لیے ایک بہت بڑی کوٹھی بنوانا شروع کیا۔ نقشے کے مطابق، یہ ایک تین منزلہ کوٹھی تھی۔ چوتھی منزل پر ایک خصوصی کمرہ تھا جس میں اُنھیں اپنی اہلیہ کے ساتھ قیام کرنا تھا۔ اس کوٹھی میں انھوں نے بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا۔ یہ بہت مضبوط قسم کی ایک قلعہ نما کوٹھی تھی۔ اس کی دیواروں اور چھت پر ہر طرف نہایت اعلیٰ پیمانے پر آرٹ ورک کیا گیا تھا۔ یہ کوٹھی بہت