Personality is changelessness in change.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۳
لمبی مدت تک بنتی رہی، یہاں تک کہ اُس کی آخری تکمیل سے پہلے 1946 میں راجا ہر چند کا انتقال ہو گیا، اور وہ اس کوٹھی میں قیام نہ کر سکے۔
یہی معاملہ ہر انسان کا ہے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بناتا ہے، جیسے کہ اس کو ابدی طور پر اپنے اس منصوبے کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ جیسے کہ اس کے اور اُس کی بنائی ہوئی دنیا کے درمیان کبھی جدائی ہونے والی نہیں۔
یہ ایک سنگین سوال ہے کہ تمام انسان موت کے بارے میں کیوں اتنا زیادہ غافل رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن خود اپنی موت کے بارے میں اُنھیں کبھی خیال نہیں آتا۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جب کسی آدمی کی تدفین کے بعد قبرستان سے لوٹتے ہیں، تو اُس وقت خدا کا ایک فرشتہ قبر کے پاس آتا ہے۔ وہ قبر کی مٹی اٹھا کر لوٹنے والے لوگوں کی طرف پھینکتا ہے اور کہتا ہے کہ جاؤ غافل ہو جاؤ، جاؤ دوبارہ تم اپنی دنیا میں مشغول ہو جاؤ۔ اس حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں فرشتوں کی طرف سے گویا کہ ایک نکمیر ہے۔ لوگ ایک انسان کو اپنے سامنے مرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ وہ اس کی تجہیز اور تکفین میں شریک ہوتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جو زمین میں چل پھر رہا تھا، وہ قبر میں دفن ہو گیا، لیکن اس واقعے سے وہ اپنے لیے کوئی سبق نہیں لیتے۔ موت کے اس واقعے سے پہلے وہ جس طرح غفلت کی زندگی گزار رہے تھے، اُسی قسم کی غفلت کی زندگی وہ اب بھی گزارتے رہتے ہیں۔ یہی واقعہ پوری تاریخ میں پیش آ رہا ہے۔ ساری انسانی تاریخ میں کچھ استثنائی افراد کو چھوڑ کر، کوئی انسان نظر نہیں آتا جو موت کے معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھے اور اُس سے اپنے لیے سبق لے۔ اس عمومی غفلت کا راز کیا ہے۔ یہ راز پروگرامنگ (programming) کے نظریے سے سمجھ میں آتا ہے۔ پروگرامنگ کا مطلب ہے کسی معاملے کی پیشگی طور پر طے شدہ ترتیب: A pre-arranged plan of procedure. سائنسی مطالعے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ خود اپنے ذہن کی پروگرامنگ کے تحت