Al-Risala · May 2008 · page 24

Personality is changelessness in change.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴

کرتا ہے۔ یہ پروگرامنگ فطری طور پر انسان کے ذہن میں موجود ہوتی ہے۔ مثلاً بھوک لگنا، پیاس لگنا، نیند آنا، وغیرہ، سب اپنے ذہن کی فطری پروگرامنگ کے تحت پیش آتے ہیں۔ آدمی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ پرو پروگرامنگ (pro-programming) کے تحت سوچتا ہے، وہ اینٹی پروگرامنگ (anti-programming) کے تحت نہ سوچتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ اینٹی پروگرامنگ سوچ دراصل اینٹی سیلف سوچ کا نام ہے، اور اینٹی سیلف سوچ بلا شبہ تمام کم یاب چیزوں میں سب سے زیادہ کم یاب چیز ہے۔ یہ پروگرامنگ حالات کے زیر اثر جزئی طور پر بدل سکتی ہے، لیکن شعوری طور پر اپنی پروگرامنگ کے خلاف سوچنا، انتہائی حد تک ایک دشوار کام ہے۔

میرے ساتھ ایسا ہوا کہ ایک بار میں مانچسٹر (انگلینڈ) گیا۔ وہاں میں لمبی مدت تک مقیم رہا۔ مانچسٹر ایسے جغرافی علاقے میں ہے، جہاں کبھی رات لمبی ہوتی ہے اور دن چھوٹا، اور کبھی دن لمبا ہوتا ہے اور رات چھوٹی۔ میں جس زمانے میں وہاں گیا تھا، اس زمانے میں وہاں رات بہت چھوٹی ہوتی تھی اور اس کے مقابلے میں دن زیادہ لمبا۔ چناں چہ ایسا ہوتا تھا کہ ہم نے مغرب کی نماز ادا کی، اس کے جلد ہی بعد عشا کا وقت آگیا، اور پھر عشا کی نماز کے بعد جلد ہی فجر کا وقت آگیا۔ اس طرح رات کو وہاں سونے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ وہاں ہم رات کے وقت جاگتے تھے اور دن کے وقت سوتے تھے۔ چناں چہ مقامی حالات کے دباؤ کے تحت، مانچسٹر کے زمانہ قیام میں سونے اور جاگنے کے بارے میں میرے ذہن کی پروگرامنگ وقتی طور پر بدل گئی۔ پھر جب میں انڈیا واپس آیا، تو اس بدلی ہوئی پروگرامنگ کی بنا پر مجھے یہاں رات کو نیند نہیں آتی تھی، بلکہ دن کو نیند آتی تھی۔ یہ صورت حال ایک عرصے تک باقی رہی۔ اس کے بعد میری پروگرامنگ اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آئی۔ جیسا کہ معلوم ہے، کمپیوٹر میں پروگرامنگ کا طریقہ رائج ہے۔ جیسی پروگرامنگ کی جاتی ہے، اسی کے مطابق، کمپیوٹر اپنا کام کرتا ہے۔ یہی معاملے زیادہ بڑے پیمانے پر انسانی دماغ کا ہے۔ فطرت کی طرف سے اس طرح ہر انسانی دماغ کی پروگرامنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے مطابق، ہر عورت اور مرد اپنی زندگی کے تمام کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ اسی حال میں جیتے ہیں اور اسی حال میں مر جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page