Your search did not match any document.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵
ہر انسان صرف محدودیت تک جیتا ہے اور اس کے بعد وہ مر جاتا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ کوئی بھی انسان موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ ہر عورت اور مرد بار بار دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ کئے رہتے ہیں۔ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھنے کے باوجود ہر آدمی اس احساس میں جیتا ہے، جیسے کہ خود اُس پر موت آنے والی نہیں۔
اس کا سبب پروگرامنگ کا معاملہ ہے۔ فطرت نے انسانی دماغ کی جو پروگرامنگ کی ہے۔ اس میں سب کچھ ہے، لیکن ایک چیز اس پروگرامنگ میں موجود نہیں، اور وہ موت ہے۔ انسانی دماغ کی پروگرامنگ میں بھوک ہے، پیاس ہے، نیند ہے اور دوسری تمام چیزیں ہیں، لیکن پروگرامنگ کی اس فہرست میں موت سرے سے شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان اس طرح جیتا ہے جیسے کہ اس پر موت آنے والی نہیں۔ اپنے داخلی شعور کے اعتبار سے ہر آدمی ابدیت(eternity) کے احساس میں جیتا ہے۔ اپنے ذاتی احساس کے اعتبار سے ہر آدمی اپنے آپ کو ابدی مخلوق سمجھتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات کی منصوبہ بندی اس طرح کرتا ہے، جیسے کہ اس کو ہمیشہ کے لیے موجودہ دنیا میں رہنا ہے۔ اس معاملے میں انسان کی مثال ایک ایسے کمپیوٹر کی ہے جس کی پروگرامنگ میں موت (death) کا لفظ یا اس کا تصور شامل نہ کیا گیا ہو۔ ایسا کمپیوٹر آپ کو ہر بات بتائے گا، لیکن جہاں تک موت کا تعلق ہے، وہ اس بارے میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکے گا۔ کمپیوٹر اپنی پروگرامنگ کے مطابق کام کرتا ہے۔ کوئی لفظ یا کوئی تصور جو کمپیوٹر کی پروگرامنگ میں شامل نہ کیا گیا ہو، اگر آپ اُس لفظ یا تصور کے بارے میں کمپیوٹر سے سوال کریں، تو کمپیوٹر اُس کا جواب نفی کی صورت میں دے گا۔ مثلاً کمپیوٹر کی اسکرین پر یہ جملہ لکھا ہوا سامنے آجائے گا:
Your search did not match any document.
ڈی این اے (DNA) حیاتیاتی سائنس کی ایک نئی شاخ ہے۔ موجودہ زمانے میں اُس پر بہت زیادہ کام ہوا ہے اور انسانی شخصیت کے بارے میں انوکھی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ڈی ای اے کا فل فارم یہ ہے :