Al-Risala · May 2008 · page 26

Deoxyribonucleic Acid

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈی این اے، یا جینیٹک کوڈ (genetic code) میں کسی انسان کی شخصیت کے بارے میں تمام چھوٹی اور بڑی معلومات درج ہوتی ہیں۔ کوئی انسان کیسے دیکھے گا، کیسے سنے گا، کیسے مسکرائے گا، کیسے کلام کرے گا وغیرہ، تمام معلومات پوری تفصیل کے ساتھ اُس میں کیمیائی حروف (chemical letters) کی صورت میں درج رہتی ہیں۔ یہ معلومات انسانی زندگی کے تقریباً تین بلین مختلف موضوعات (3 billion different subjects) سے متعلق ہوتی ہے۔ ایک انسان کے جینیٹک کوڈ میں اتنی زیادہ معلومات ہوتی ہیں کہ اُن کو اگر ڈی کوڈ (decode) کر کے لکھا جائے تو اس کے لیے موجودہ انسائیکلو پیڈیا برٹا ٹانیکا جیسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک ہزار جلدیں درکار ہوں گی۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ کسی انسان کے جینیٹک کوڈ میں انسائیکلو پیڈیا ئی معلومات ہونے کے باوجود اُس میں موت (death) کے بارے میں کچھ بھی موجود نہیں۔ انسانی شخصیت کے اس دفتر میں اُس کے بارے میں تمام تفصیلات درج ہیں، لیکن اُس میں موت کا کوئی اندراج نہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت کے معاملے کو خدا نے انسان کی اپنی اختیاری دریافت کے خانے میں رکھ دیا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے باہر نکل کر اپنی موت کے بارے میں سوچے اور اس کے مطابق، اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔

نیند کی مثال لیجیے۔ نیند اور موت کے درمیان ایک مشابہت پائی جاتی ہے۔ اس فطری حقیقت کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: النوم اُختُ الموت (نیند موت کی بہن ہے) کسی شخص کو جب نیند آتی ہے تو وہ بے خبر ہو جاتا ہے، اس طرح موت بھی بظاہر آدمی کو بے خبر کر دیتی ہے۔ لیکن نیند اور موت کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ نیند کا وقت ہر ایک کے لیے مقرر ہے، لیکن موت کا معاملہ کسی کے لیے اس طرح کی توقیت فطری (natural timing) کے ساتھ مقرر نہیں، موت بالکل نامعلوم طور پر اچانک آ جاتی ہے۔ کوئی بچپن میں مر جاتا ہے، کسی کی موت جوانی میں آتی ہے اور کسی کی موت بڑھاپے میں۔ نیند اور موت کا یہ فرق ایک گہری حقیقت کو بتا رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ نیند ہر آدمی کی پروگرامنگ کا فطری حصہ ہے، لیکن موت آدمی کی پروگرامنگ کا فطری حصہ نہیں۔ موت جب بھی آتی ہے، خدا کے براہ راست

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page