Al-Risala · May 2008 · page 27

Deoxyribonucleic Acid

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۷

فیصلے کے تحت آتی ہے۔ یہ خدا ہے جو خود اپنے فیصلے کے تحت، کسی کی موت کو مقدم کر دیتا ہے اور کسی کی موت کو مؤخر۔ موت کا تعلق نہ آدمی کی اپنی سوچ سے ہے، اور نہ اس کی فطری پروگر منگ سے۔ جب کسی شخص کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کا مطلب خاتمۂ حیات نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری موت کے باوجود اصل انسان اُس وقت بھی زندہ ہوتا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ موت دراصل ایک منتقلی (transfer) کا معاملہ ہے۔ موت اُس خصوصی لمحے کا نام ہے، جب کہ انسان ایک مرحلۂ حیات (period of life) سے گزر کر دوسرے مرحلۂ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسافر اگلے اسٹیشن پر ایک سواری کو چھوڑ دے اور اس کے بعد دوسری سواری کے ذریعے اپنا مستقل سفر جاری رکھے۔

پروگر منگ کے اس ظاہر ہ (phenomenon) کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بارے میں انسان کی غفلت کیوں ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ انسان اپنے روز مرہ کے سفر کی پلاننگ ٹائم لمٹ(time (time limit) کو دھیان میں رکھتے ہوئے کرتا ہے، لیکن زندگی کا سفر جو بظاہر موت ختم ہو رہا ہے، اس کی پلاننگ وہ اس عام اصول کے مطابق نہیں کرتا۔ کوئی عورت اور مرد اپنی زندگی کا سفر وقت پر مبنی پلاننگ (time based planning) کے تحت نہیں کرتے، یعنی وہ اس طرح نہیں سوچتے کہ چند دن میں تو مرنا ہے، پھر زیادہ سامان اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت۔ وہ تکاثر (more and more) کی نفسیات میں جیتے جیتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اچانک مرجاتے ہیں۔ انسانیت کی پوری تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

یہ معاملہ اُس وقت سمجھ میں آتا ہے جب کہ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کی روشنی میں اس کا مطالعہ کیا جائے۔ الہامی علم (revealed knowledge) کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو پہلے ہی دن اس کو ابدی صورت میں پیدا کیا۔ خدا نے انسان کو پیدا کیا تو پہلے ہی دن اس کو ابدی صورت میں پیدا کیا۔ خدا نے انسان کو ایک لامحدود مائنڈ دیا اور اس میں ہر قسم کی معلومات بھر دیں۔ ڈی این اے (DNA) کے جدید مطالعے سے یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہو رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page