Deoxyribonucleic Acid
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۸
کہا جاتا ہے کہ ایک انسانی دماغ میں جو اعصاب (nerves) ہیں، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کو پھیلا یا جائے تو گلوب کے چاروں طرف ان کو تقریباً 25 بار لپیٹا جا سکتا ہے۔ اس تخلیق کے مطابق، ہر انسان پیدائشی طورپر یہ شعور لے کر پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک ابدی وجود ہے۔ اس کا سفر موت ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ موت کے بعد بھی مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ ہر انسان اسی ابدیت کے شعور میں جیتا ہے۔ داخلی احساس کے تحت ہر انسان کی شخصیت ابدیت کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خالق نے بطور واقعہ انسانی فطرت کی جو پروگرامنگ کی ہے، وہ ابدیت (eternity) کے حوالے سے کی ہے، یعنی جینے کے معاملے میں انسان کی جو نفسیات ہوتی ہے، وہ اُس سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے جو ٹرین یا ہوائی جہاز کے سفر کے وقت ہوتی ہے۔ ٹرین یا ہوائی جہاز کے سفر میں انسانی ذہن کی پروگرامنگ محدود وقت کو لے کر ہوتی ہے۔ جب کہ زندگی کے معاملے میں انسانی ذہن کی پروگرامنگ زمان اور مکان کی محدودیت سے بالکل ماورا (beyond time and space) ہوتی ہے۔
نیچر کی یہی پروگرامنگ موت کے بارے میں انسان کی موجودہ نفسیات (psyche) کا اصل سبب ہے۔ انسان انسان جب بھی کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس کے لیے اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایک اجنبی واقعہ ہوتا ہے۔ اس کی اپنی فطرت کی پروگرامنگ اس کو بتا رہی ہوتی ہے کہ میں ایک ابدی شخصیت (eternal personality) رکھنے والا آدمی ہوں۔ اس طرح اپنے بارے میں اس کا شعور ابدیت (sense of eternity) اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ موت کے اس خارجی واقعے کو اپنے اوپر منطبق (apply) کرے۔ وہ اپنی نفسیات کے تحت ایسے کسی واقعہ کو غیر کا واقعہ (someone else's phenomenon) سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔
ایسی حالت میں زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر اینٹی پروگرامنگ سوچ پیدا کرے۔ وہ خود اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ وہ پروگرامنگ کے اس معاملے سے اوپر اٹھے۔ وہ اپنی زندگی کے قبل از موت دور، اور بعد