Al-Risala · May 2008 · page 29

Deoxyribonucleic Acid

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹

ازموت دورمیں فرق کرے، اور پھر اپنی زندگی کے لیے مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کر سکے۔ اس طرز فکر کو ایک لفظ میں انفصالی طرز فکر (detached thinking) کہا جاسکتا ہے۔ ایک شاعر نے اس قسم کی سوچ کو تجرید تصور کا نام دیا ہے۔ اس کا شعر یہ ہے:

ہے داد کے قابل، میری تجرید تصور کرتا ہوں تجھے غیر کی محفل سے جُدا یاد اس فطری نقشے کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ کسی انسان کے لیے اپنی زندگی کی مطابق واقعہ منصوبہ بندی صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس کی منصوبہ بندی مبنی بر موت منصوبہ بندی (death-based planning) ہو، یعنی وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرے کہ اس کا عرصہ حیات (life span) موت سے پہلے کے دور سے لے کر موت کے بعد کے دور تک پھیلا ہوا ہے۔ تمثیل کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زندگی کسی انسان کے لیے ایک عارضی سفر ہے، اور موت گویا وہ اسٹیشن ہے جہاں اتر کر وہ اپنے مستقل دور حیات میں پہنچنے والا ہے۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر جب غور کیا جائے تو الہامی علم (revealed knowledge) دوبارہ ہم کورہ نمائی دیتا ہے۔ اس رہ نمائی کے مطابق، موت سے پہلے کا مرحلہ حیات تیاری کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ حیات تیاری کے مطابق اپنا مستقل انجام پانے کا مرحلہ۔ گویا کہ ہماری موجودہ زندگی ایک قسم کے امتحان ہال میں گزر رہی ہے۔ یہاں ہر چیز پرچہ امتحان (test paper) ہے۔ یہاں جو کچھ ہمارے ساتھ پیش آتا ہے، خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا، وہ سب کا سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے پرچہ امتحان ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ اُس کے لیے نہ انعام ہے اور نہ سزا۔ انعام اور سزا دونوں کا معاملہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات سے متعلق ہے، وہ موت سے پہلے کے مرحلہ حیات سے متعلق نہیں۔

یہی انسانی زندگی کی اصل حقیقت ہے۔ ہر عورت یا مرد کو اسی حقیقت کے مطابق، اپنی زندگی کا نقشہ بنانا ہے۔ فطرت کی پروگرامنگ کے مطابق، انسان موجودہ زندگی ہی کو اپنی مستقل زندگی سمجھ لیتا ہے۔ حالاں کہ موجودہ زندگی صرف ایک عارضی زندگی ہے۔ جس طرح کوئی طالب علم عارضی طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page