Deoxyribonucleic Acid
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰
امتحان ہال میں کچھ وقت گزارتا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی اصل زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے، اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں عارضی طور پر آیا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی اصل دنیا کی طرف لوٹ جائے گا۔ موجودہ دنیا میں مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کے لیے اینٹی پروگرامنگ سوچ یا آؤٹ آف پروگرامنگ سوچ کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ ایک بے حد مشکل کام معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ اینٹی پروگرامنگ سوچ ایک دو طرفہ سوچ کا نام ہے۔ اس میں آدمی کو ایک طرف موجودہ عارضی مدت حیات کے اعتبار سے سوچنا پڑتا ہے، اور عین اُسی وقت ضرورت ہوتی ہے کہ وہ بعد از موت ابدی مدت حیات کے اعتبار سے سوچے ۔ مگر یہ دو طرفہ سوچ انسان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ انسانی دماغ کی صلاحیت (capacity) اتنی زیادہ ہے کہ وہ ہر قسم کی متضاد سوچ کا احاطہ کر سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو ایک برطانوی مفکر (Walt Whitman) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
I am large enough to contain all these contradictions. انسان کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے دوسرے معاملات میں اسی متضاد طرزِ فکر کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اینٹی پروگرامنگ سوچ انسان کے لیے کوئی ناممکن سوچ نہیں، وہ ہر عورت اور مرد کے لیے پوری طرح ممکن ہے۔ اب ہر عورت اور مرد کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی موجودہ عارضی زندگی کو کس نہج پر گزارتا ہے، ایسے نہج پر جو اس کو اپنے ابدی دورِ حیات میں جنت میں پہنچانے والا ہے، یا جہنم میں۔ جدید تہذیب مادی راحت (material comfort) کے تصور پر قائم ہے۔ جدید تہذیب کے تحت انسانی زندگی کا جو نقشہ بنا ہے، اُس میں صرف آج (today) کا تصور ہے، اُس میں کل (tomorrow) کا تصور نہیں۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ خوب کام کرو اور خوب عیش کرو: Work hard, party hard اس جدید ذہن کا کلمہ یہ ہے ابھی اور اسی وقت (right here, right now) ۔ موجودہ زمانے میں اس نظریے پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ جدید میڈیا تمام تراسی تصور پر چلایا جاتا ہے۔ بطور مثال یہاں صرف ایک آرٹیکل کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا