Al-Risala · May 2008 · page 31

Deoxyribonucleic Acid

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۱

(27 جنوری 2008) میں ایک آرٹیکل اس موضوع پر چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے کا نام ڈونا (Donna Devane) ہے۔ یہ آرٹیکل حسب ذیل عنوان کے تحت مذکورہ اخبار میں شائع ہوا ہے: Be happy here and now. زندگی کو کامیاب بنانے کا یہ تصور فطرت کے نقشے کے بالکل خلاف ہے۔ ڈی این اے (DNA) اور جینیٹک کوڈ (genetic code) کے مطابق، انسان کی زندگی پورے معنوں میں ایک ابدی زندگی ہے۔ وہ آج سے لے کر کل تک پھیلی ہوئی ہے۔ فطرت کے تخلیقی نقشے کے مطابق، یہ ایک خطرناک قسم کا ناقص تصور حیات ہے کہ آج کو لیا جائے اور کل کے بارے میں کچھ نہ سوچا جائے۔ جب ڈی این اے کی دریافت بتاتی ہے کہ انسان ایک مسلسل حیاتیاتی سلسلے کا نام ہے، تو انسان کے لیے مفید طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا نقشہ ابدیت (eternity) کو لے کر بنائے، نہ کہ صرف وقتی لمحہ (moment) کو لے کر۔

یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ مجھے خود بھی مرنا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ آخروقت تک موت کو بھولے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اچانک اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں ایک مثال درج کی جاتی ہے۔ روسی کرنجیا (Russy Karanjia) انڈیا کے ایک مشہور صحافی تھے۔ وہ پارسی فیملی میں پیدا ہوئے۔ وہ سنسنی خیز صحافت (sensational journalism) کے امام تھے۔ ان کو فرینک مورس، شیام لال اور خوش ونت سنگھ کے درجے کا صحافی سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے دوسری عالمی جنگ میں وار کرسپانڈنٹ (war correspondent) کا کام کیا تھا۔ انھوں نے 1941 میں اپنا ہفت روزہ انگریزی اخبار بلٹز (Blitz) جاری کیا۔ اُن کے اخبار پر یہ ماٹو (motto) لکھا رہتا تھا: Free, Frank, and Fearless روسی کرنجیا کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے تھے، مثلاً جواہر لال نہرو، مارشل ٹٹو، صدر جمال عبدالناصر اور ایران کے رضا شاہ پہلوی، وغیرہ۔ اُن پر دوبار ہارٹ اٹیک ہوا۔ یکم فروری 2008 کو ان کی موت بمبئی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page