Al-Risala · January 2008 · page 22

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۲

اس آیت میں اصحابِ اعراف سے مراد شہداء ہیں، یعنی خدا کے وہ خاص بندے جنھوں نے میں قوموں کے اوپر خدا کے دین کی گواہی دی اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے انکار کیا (تفسیر قرطبی، جلد 7، صفحہ 211)۔ ان شہداء (دُعاة) کے لیے قرآن میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً منذر، مبشر، داعی، وغیرہ۔ اس گروہ میں اولاً انبیاء شامل ہیں اور اس کے بعد اللہ کے وہ خاص بندے جنھوں نے انبیاء کے نمونے کو لے کر اپنے زمانے کے لوگوں پر دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا۔ تاہم قیامت میں لوگوں کے ابدی انجام کا جو فیصلہ ہونے والا ہے وہ اُسی کارِ شہادت (دعوت) کی بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں ان کے اوپر انجام دیا گیا تھا۔ یہ کارِ شہادت (دعوت) دنیا ہی میں انسانوں کو دو گروہوں میں بانٹ رہا ہے۔ ایک، اس کو قبول کرنے والے اور دوسرے، اس کا انکار کرنے والے۔ قیامت میں یہ دوسرے قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ کر دیے جائیں گے۔ اور پھر دونوں کے لیے ان کے عمل کے مطابق، دو مختلف انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ اگر چہ تمام تر خدا کا فیصلہ ہوگا۔ تاہم اس فیصلے کا اعلان انھیں خصوصی بندوں کے ذریعے کرایا جائے گا جنھوں نے دنیا میں دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا تھا۔ یہ ان کے حق میں ایک غیر معمولی اعزاز ہوگا۔ اس اعلان کے لیے قیامت کے میدان میں اونچے اسٹیج بنائے جائیں گے جن کے اوپر یہ اصحابِ اعراف کھڑے ہوں گے۔ وہاں سے وہ ہر ایک کو دیکھیں گے اور ہر ایک کے بارے میں خدائی فیصلے سے اس کو باخبر کریں گے۔

شہداء اور دُعاۃ نے دنیا میں خدا کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اس کے لیے محنت کی تھی، اس عمل کی بنا پر ان کو یہ امتیازی انعام دیا جائے گا کہ قیامت میں وہ بلندیوں پر کھڑے ہوں اور اس دعوتِ حق کے آخری انجام سے لوگوں کو باخبر کریں۔ دنیا میں وہ اپنے مقصد کے اعتبار سے بلند تھے اور قیامت میں وہ اس کے عملی انجام کے اعتبار سے بلند قرار دیے جائیں گے۔

خدا پر ایمان لانے کے بعد ایک بندے سے عملی طور پر جو کچھ مطلوب ہے، اس کو قرآن میں دو قسم کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اطاعتِ خدا، اور نصرتِ خدا۔ اطاعتِ خدا سے مراد یہ ہے کہ بندہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page