Deoxyribonucleic Acid
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۲
کے ایک اسپتال میں ہوئی ۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 92 سال تھی ۔ ٹائمس آف انڈیا (2 فروری 2008) کی رپورٹ کے مطابق ، اپنی موت سے پہلے انھوں نے جس واحد احساس کا ذکر کیا ، وہ یہ تھا : The only thing he complained about was that, the nurses skirts were not short enough. روسی کرنجیا اُس وقت بستر مرگ پر تھے۔ اُس وقت وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکے تھے۔ لیکن اُس وقت بھی اُن کے دماغ میں جو چیز چھائی ہوئی تھی ، وہ یہ کہ اسپتال کی نرسوں کا اسکرٹ زیادہ چھوٹا نہ تھا جس سے اُن کے جسم کے زیادہ حصے دکھائی دیں۔ حالاں کہ اُس وقت بطور حقیقت یہ چاہیے تھا کہ وہ موت کے بعد والے حالات کو سوچیں۔ اس بے شعوری کا سبب یہ تھا کہ موت کے بعد والے حالات کے متعلق سوچنے کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے اوپر اٹھ کر سوچ سکیں۔ مگر شعوری نا پختگی کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ اس لیے آخر وقت تک وہ موت کی حقیقت سے بے خبر رہے۔ قرآن میں پیغمبر کے مشن کو اِنذار کا مشن بتایا گیا ہے ، یعنی لوگوں کی بے خبری کو توڑنا اور انھیں حقیقتِ حال سے باخبر کرنا ۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں دیکھیے تو انذار سے مراد یہی معاملہ ہے۔ انسان کے جینیٹک کوڈ میں چوں کہ موت (death) کا اندراج نہیں۔ موت ہر انسان پر براہِ راست خدائی فیصلے کے تحت آتی ہے۔ اس لیے کوئی آدمی اس معاملے کو اُسی وقت سمجھ سکتا ہے، جب کہ وہ برتر سوچ کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ پیغمبر کا مشن یہی ہے کہ ہر عورت اور مرد کے اندر وہ اس برتر سوچ کی صلاحیت پیدا کرے ۔ تا کہ ہر انسان موت سے پہلے موت کی حقیقت کو جان لے۔ وہ موت سے پہلے وہ ضروری تیاری کرے ، جو اُس کو موت کے بعد کی زندگی میں کامیاب بنانے والی ہو۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ لوگ بار بار موت کے واقعات کو دیکھتے ہیں ، لیکن موت کے معاملے پر وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت اُنھیں صرف خاتمۂ حیات کے ہم معنی نظر آتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سے بے خبر رہتے ہیں کہ موت ایک نئے زیادہ با معنی دورِ حیات کا آغاز ہے۔ اگر وہ اس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی کا پورا نقشہ بدل جائے۔ ان کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور یہ بن جائے کہ وہ اپنی موت کے بعد کی زندگی کو زیادہ کامیاب بناسکیں۔