Deoxyribonucleic Acid
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۳
اس اعتبار سے دیکھیے تو موت زندگی کی مثبت سرگرمیوں کے لیے سب سے زیادہ طاقت ور محرک (incentive) بن جائے گی۔ موت کی یاد آدمی کو بے عمل (inactive) نہیں بناتی ،موت کی یاد آدمی کو زیادہ سرگرم (active) بنا دیتی ہے۔ موت آدمی کے اندر یہ سوچ پیدا کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کرو، کیوں کہ موت کے بعد عمل کا موقع باقی نہیں رہے گا۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت مواقع عمل کا خاتمہ ہے۔ اس اعتبار سے موت کا رول محرک عمل کا رول ہے، نہ کہ مانع عمل کا رول۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اس کو ابدی صلاحیت والا دماغ دیا۔ اس کے دماغ کی پلاننگ ہر اعتبار سے ابدیت کی بنیاد پر کی گئی۔ اس اعتبار سے انسان کی اصل قیام گاہ جنت کی ابدی دنیا ہے۔ لیکن پیدائش کے بعد انسان کو ایک محدود مدت کے لیے موجودہ دنیا میں رکھا جاتا ہے۔ دنیا کا یہ عارضی قیام اس کے ٹسٹ کے لیے ہے۔ موجودہ دنیا کی عارضی مدت میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون شخص اس ٹسٹ میں پورا اترتا ہے اور کون شخص اس میں پورا نہیں اترتا۔ جو عورت یا مرد اس ٹسٹ میں پورے اتریں گے، ان کو منتخب کر کے جنت میں بسادیا جائے گا۔ اور جو عورت یا مرد اس ٹسٹ میں پورے نہ اتریں، ان کو قابل رد (rejected lot) قرار دے کر الگ کر دیا جائے گا۔ موت دراصل ایک ابدی سفر کا صرف ایک درمیانی اسٹیشن ہے۔ موت انسان کے ابدی تسلسل کا درمیانی انقطاع نہیں، بلکہ وہ خود تسلسل حیات کا ایک لمحاتی حصہ ہے۔ موت کا کوئی وقت نہیں، اور نہ موت کی کوئی مدت ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی موت کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتا۔ موت کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وہ ہماری اپنی پروگرامنگ کا حصہ نہیں، وہ براہ راست خدا کی طرف سے آنے والا ایک فیصلہ ہے۔ خدا نے موت کے وقت کی خبر کسی انسان کو نہیں دی، نہ براہ راست طور پر اور نہ بالواسطہ طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا اور نہ وہ اس کا کوئی شعور رکھتا۔ آدمی جیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اچانک مر جاتا ہے۔ فطرت کی پروگرامنگ کے مطابق، ہر انسان بطور واقعہ ابدی بن گیا ہے۔ انسان کی اس ابدیت کو کوئی توڑنے والا نہیں۔ البتہ خدا جب دیکھتا ہے کہ آدمی کے ٹسٹ کی مدت پوری ہوگئی، تو وہ خود اپنے فیصلے کے تحت اس عمل میں مداخلت کرتا ہے۔ وہ انسان کو