Deoxyribonucleic Acid
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۴
موجودہ دنیا سے نکال کر بعد کی ابدی دنیا میں پہنچادیتا ہے۔ اسی وقفہ انتقال (transferring period) کا نام موت ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے موت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے (transportation) کا معاملہ ہے، نہ کہ زندگی کے خاتمے کا معاملہ۔
یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لیے ہر عورت اور مرد کو اپنے اندر ایک خصوصی صلاحیت پیدا کرنا ہے، یہ ہے اینٹی پروگرامنگ سوچ۔ یہ گویا کہ خود اپنے خلاف سوچنے کا معاملہ ہے۔ جو لوگ اس انقلابی طرزِ فکر میں کامیاب ہوں، وہی اس معاملے کو سمجھیں گے، وہی ایسا کرسکیں گے کہ اپنی پروگرامنگ کے خلاف سوچ کر موت کے معاملے کو جانیں اور قبل از موت مرحلہ حیات میں، بعد از موت مرحلہ حیات کی تیاری کریں۔
فرانس کے صدر نکولس سارکوزی (Nicholas Sarkozy) جنوری 2008 میں انڈیا آئے۔ 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کی تقریب میں وہ خصوصی مہمان کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس کے بعد اپنے دورہ ہند کے آخری مرحلے میں وہ دہلی سے آگرہ گئے، تاکہ وہاں مشہور تاریخی عمارت تاج محل کو دیکھ سکیں۔ ان کے سفر آگرہ کی رپورٹ اخبار میں آئی ہے، اس میں ایک سبق آموز جز شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر فرانس جب تاج محل کو دیکھ چکے تو ان کے سامنے حسبِ معمول گسٹ بک (Guest Book) لائی گئی تا کہ وہ اس پر اپنا تاثر درج کر سکیں ۔ صدر فرانس نے اختصار کے ساتھ اس میں ایک لفظ لکھا۔ یہ فرانسیسی زبان میں اُروواغ (Uruvor) تھا۔ اس فرانسیسی لفظ کا مطلب ہے: جلد ہی پھر ملیں گے (See you soon, again)۔
میں نے یہ رپورٹ پڑھی تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک شخص کے ذاتی احساس کی بات نہیں۔ یہ لفظ پوری انسانیت کی نمائندگی کر رہا ہے۔ تاج محل کو اگر جنت کا نمائندہ سمجھا جائے تو یہ جملہ پوری انسانیت کے احساس کو بتا رہا ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والے تمام انسان اپنے داخلی احساس کے تحت اپنے دماغ میں ایک جنتی دنیا کا خواب لئے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ خوابوں کی اس دنیا کی تعمیر کر سکے۔