sight, touch, taste, smell and hearing
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۳
ان تمام اوامر ونواہی پر عمل کرے جو خدا کی طرف سے رسول کے ذریعے بتائے گئے ہیں۔ وہ ان تمام حکموں کو اپنی زندگی میں اختیار کرے جن کو اختیار کرنے کی خدا نے تاکید کی ہے، اور ان تمام چیزوں سے بچے جن سے بچنے کا خدا نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے، یا اپنے رسول کے ذریعے جن کا اعلان فرمایا ہے۔
نصرت خدا کا مطلب ہے خدا کی مدد کرنا۔ یہ ایک انوکھا شرف ہے جو کسی صاحب ایمان آدمی کو ملتا ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یہ چوں کہ خود خدا کا ایک مطلوب عمل ہے جو بندے کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے، اسی لیے اس کو نصرت خدا (خدا کی مدد) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
عبادت، اخلاق اور معاملات میں خدا کے احکام کی تعمیل بندے کی اپنی ضرورت ہے۔ اس کے ذریعے بندہ اپنی بندگی کو ثابت کر کے خدا کے انعام کا مستحق بنتا ہے، مگر دعوت الی اللہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ اللہ کے اوپر سے حجت کو اٹھانا ہے (النساء: 165) امتحان کی مصلحت کی بنا پر یہ کام انسانوں کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے۔ یہ ایک خدائی عمل ہے جس کو کچھ انسان خدا کی طرف سے انجام دیتے ہیں اور پھر خدا کے یہاں سے وہ اس کا انعام پاتے ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجیے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ، كما قال عيسى بن مريم للحواريين مَّن أنصاري إلى الله، قال الحواريُّونَ نحن أنصار الله، فآمنت طائفة من بني إسرائيل وكفرت طائفة، فأيدنا الَّذِينَ آمنوا على عَدُوِّهم فأصبحوا ظاهرين (الصَّف: 14) ”اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا_ کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی، پس وہ غالب ہو گئے۔ “
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues