Al-Risala · May 2008 · page 46

The Role of Spirituality in Stress Management.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۶

your program until it finished. I was really impressed by your intellectual conversation and noted your website from where I got your email address when I arrived at my office. on website I read your brief life sketch and observed Almighty Allah has blessed you to work for the peace and harmony among the human beings. Masha'Allah, it is a great blessing. I would request you to kindly keep me in your prayers and would like to seek guidance from your goodself for better life here and after. (K. B. Shakir, Karachi, Pakistan)

9- الرساله جون 2007 کے شمارے میں شائع ایک مضمون کے خلاف پورے دو ماہ بعد اگست 2007 میں سری نگر میں بعض واعظین، ائمہ مساجد اور دانشوروں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا۔ ذاتی طور پر اگرچہ مجھے آپ کی ہر تحریر سے مجموعی طور پر ہمیشہ اتفاق رہا ہے لیکن اس بار میں خود بھی سخت کنفیوژن کا شکار ہو گیا تھا کہ ایک طرف قرآن وحدیث کے گہرے مطالعہ و تحقیق کے بعد مجھے الرسالہ کی تحریروں میں آج تک کوئی قابل اعتراض اور خلاف اسلام بات نظر نہیں آئی ہے۔ الرسالہ ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے میرے اندر دینی شعور بخشا، دعوت و تبلیغ کا جذبہ ابھارا، مطالعہ و تحریر کی تحریک دی اور اسلام کو از سر نو دریافت کرنے کا ذوق پیدا کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس بار یہ بات میرے قلب و ذہن کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی کہ لوگ الرسالہ کی کیوں اتنی زیادہ مخالفت کر رہے ہیں۔ میں اسی ذہنی کشمکش میں تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ کاش کسی بڑے اور معتبر عالم دین سے معلوم ہو جائے کہ الرسالہ کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتا ہے۔ لیکن بظاہر ہندوستان میں اس طرح کا کوئی قابل اعتماد عالم دین میری نظر میں نہیں تھا کہ جس سے میں خط کے ذریعے الرسالہ کے بارے میں اس کی رائے دریافت کرتا اور وہ بھی خدا ترسی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار فرماتا۔ اس طرح میں اسی اضطراب و بے چینی میں مبتلا تھا کہ 10 اگست 2007 کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ ہمارے گھر میں تشریف فرما ہیں۔ چہرے پر خاص بشاشت نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے، آپ کمرے کے ایک طرف تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف آپ کے مقابل میں ہندوستان کے مایہ ناز اور ممتاز عالم دین مولانا ابوالکلام آزاد تشریف فرما ہیں۔ چوں کہ میں ذاتی طور پر مولانا ابوالکلام آزاد اور آپ سے بہت زیادہ متاثر ہوں اور استفادہ بھی بہت کیا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں میں صرف آپ کو امت مسلمہ کا حقیقی اور واحد قائد اور رہنما مانتا ہوں۔ اس لحاظ سے آپ کو اور مولانا آزاد کو ایک ساتھ خواب میں دیکھنا میرے لیے بہت اچھا اور نیک شگون تھا۔ میرے گھر میں میرے سوا دوسرے افراد بھی تھے لیکن وہ سب آپ کی طرف متوجہ تھے اور آپ کی نصیحت سے لبریز باتوں کو توجہ سے سن رہے تھے۔ چناں چہ میں اس وقت موقع غنیمت جانتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد سے الرسالہ اور آپ کے بارے میں دریافت کرنے لگا۔ مولانا آزاد نے مسکراتے ہوئے مجھے سے قلم اور کاغذ لانے کے لیے کہا، میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page