The Role of Spirituality in Stress Management.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۷
نے یہ دونوں چیزیں حاضر کر دیں۔ مولانا آزاد نے بڑے اچھے اور خوشگوار موڈ میں ایک پورا صفحہ لکھ کر مجھے دیا۔ میں نے اس تحریر کو دیکھے بغیر پہلے آپ کو پڑھنے کے لیے دے دیا۔ آپ اس تحریر کو پڑھ رہے تھے اور مسکراتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اس دوران میں محسوس کر رہا تھا کہ مولانا آزاد نے جس عقیدت ومحبت کے ساتھ اس تحریر کولکھا اور آپ نے جس اطمینان وتسکین کے ساتھ اس کو پڑھا اس سے یہی سمجھ میں آرہا تھا کہ مولانا آزاد نے آپ کے اور رسالے کے بارے میں ضرور مثبت رائے کا اظہار فرمایا ہوگا۔ اس کے بعد میں نے چاہا کہ میں بھی اس تحریر کو پڑھوں لیکن میں اس تحریر کو پڑھے بغیر نیند سے جاگ گیا۔
میں نے پھر اپنے طور پر جب اس خواب پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ الرسالہ کوئی عام پرچہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی نوعیت کا پورے عالم اسلام میں واحد پرچہ ہے اور اصولی طور پر تمام علماء ربانی اس سے متفق ہیں اور اس سے انھیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک دفعہ مولانا عبد الباری ندوی مرحوم نے بھی آپ کے متعلق کہا تھا کہ آپ جدید طبقہ کے لیے مبعوث ہیں بلاشبہ بات درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخالفین کی طرف سے ہر طرح کی بہتان طرازی والزام تراشی اور کردار کشی و دشنام طرازی کے باوجود الرسالہ مشن اپنے منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے اور آپ کی تحریریں جو قرآن وحدیث کی صحیح تعبیر وتشریح پر مبنی ہیں، شائع ہو رہی ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم وبصیرت کے سب سے اونچے منصب پر فائز فرمایا ہے۔ کیوں کہ خصوصاً آج کل الرسالہ میں جو تحریریں شائع ہوتی ہیں وہ بہت زیادہ ذہانت کی پختگی اور قرآن وحدیث پر زیادہ گہرے غور وفکر کی عکاسی کرتی ہیں۔
میں اپنے اس خط کے ذریعہ کھلے لفظوں میں اس حقیقت کا اقرار کرنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے فکر ونظر سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں اور اسی جذبہ خلوص ومحبّت کے تحت میں نے یہ خط لکھا ہے (غلام نبی کشانی، سری نگر، کشمیر، 26 جنوری 2008 )۔ 10- 28 January 2008 Maulana please accept my gratitude on giving me the actual face of Islam which was always in my mind. Luckily I was not reading religious books so I couldn't develop those kind of two great evils namely, bias and rigidness. Where I am working a friend of mine introduced your literature and the only thing that came out of my mind was that this is the actual face of Islam. I feel so fortunate that Allah has guided me through you. You are the real and only scholar of Islam in my view. May Allah succeed your sincere efforts of spreading Islam in its real form. (Waseem Nasir)
11- یکم فروری 2008 کو اعلی تعلیم یافتہ افراد کا ایک وفد اسلامی مرکز میں آیا۔ یہ مختلف مغربی ملکوں کے لوگ