Al-Risala · January 2008 · page 24

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴

اس آیت میں اللہ کی نصرت کرنے یا اللہ کا انصار بننے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد ہے ــــ خدا کے دعوتی منصوبے میں اپنے آپ کو قول اور عمل سے شریک کرنا، اقامتِ حجت کے خدائی کام کو اپنا کام بنا کر اس کے لیے محنت کرنا۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: أى مَن معيّني فى الدعوة إلى الله عزوجل؟ قال الحواريون (وهم أتباع عيسى عليه السلام): نحن أنصار الله، أي نحن أنصار على ما أرسلت به وموازروك على ذلك۔ و لهذا بعثهم دُعاةً إلى الناس فى بلاد الشام فى الإسرائيليين واليونانيّين، وهكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في أيام الحج ”مَن رجل يؤوينى حتى أبلّغ رسالة ربّي، فإنّ قريشاً قد منعونى أن أبلّغ رسالة ربّيّ۔ (تفسير ابن كثير، جلد 4، صفحه 362) ”یعنی کون ہے جو اللہ کی طرف بلانے کے کام میں میرا مددگار ہو، حواریوں نے کہا، اور اس سے مراد عیسیٰ کے پیرو ہیں، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ ہم آپ کے مددگار ہیں اس کام میں جس کو لے کر آپ بھیجے گئے ہیں اور اس کام میں ہم آپ کا ساتھ دینے والے ہیں۔ اس لیے حضرت مسیح نے ان لوگوں کی طرف داعی بنا کر بھیجا، بلادِ شام میں اسرائیلیوں اور یونانیوں کی طرف۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایامِ حج میں لوگوں کے پاس جا کر کہتے کہ تم میں کون شخص ہے جو میری مدد کرے یہاں تک کہ میں اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، کیوں کہ قریش مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ ساری دنیا کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں، مگر آپ ایک محدود مدت تک دنیا میں رہے اور اس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس ذمے داری کو ادا کرنے کی صورت کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ آپ کی امت آپ کے بعد اس کام کی ذمے دار ہے۔ اپنی زندگی میں آپ نے براہِ راست طور پر اس کام کو انجام دیا۔ آپ کے بعد یہ کام بالواسطہ طور پر آپ کی امت کے ذریعے انجام پائے گا۔ آپ کی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page