پہلے اپنی اصلاح
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲
پہلے اپنی اصلاح
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ غیرمسلموں میں دعوت الی اللہ کی تحریک چلا رہے ہیں، لیکن پہلا کام خود اپنی اصلاح ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے کام کریں۔ جب مسلمانوں کی اصلاح ہو جائے گی تو اس کے بعد غیرمسلموں میں دعوت کا کام اپنے آپ ہونے لگے گا۔
میں نے کہا کہ یہ نظریہ آپ نے خود اپنے ذہن سے بنایا ہے، یا آپ نے اس کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم کیا ہے۔ وہ اپنے اس نظریے کے حق میں قرآن اور حدیث سے کوئی حوالہ نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ جو بات قرآن اور حدیث میں نہ کہی گئی ہو، اس کو اپنی طرف سے کہنے کا نام بدعت ہے، اور بدعت ایک گم راہی ہے۔ ’’پہلے اپنی اصلاح‘‘ کا نظریہ بھی اسی قسم کی ایک بدعت ہے۔ میں نے کہا کہ دعوتی کام کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہمارے لیے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے مسلسل دعوتی عمل کے ذریعے اسلام کو ہر طرف پھیلایا۔ آپ اصحاب رسول کی زندگی کا مطالعہ کریں، تو آپ پائیں گے کہ ہر صحابی احساسِ بے عملی میں مبتلا تھا، نہ کہ احساسِ عمل میں۔ ہر صحابی اپنے آپ کو غیر اصلاح یافتہ سمجھتا تھا، اس کے باوجود اس نے دعوتِ عام کا کام کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کی شرط اگر یہ ہو کہ داعی اپنے آپ کو اصلاح یافتہ سمجھنے لگے، تو کبھی دعوت کا کام نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ سچا مومن ہمیشہ اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ میں اپنی اصلاح نہ کر سکا۔ جو آدمی اپنے آپ کو اصلاح یافتہ سمجھ لے، وہ دعوت کے لیے سب سے زیادہ نااہل (incompetent) انسان بن جاتا ہے۔ اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ دعوت ہر حال میں دی جائے گی، خواہ مسلمان اصلاح یافتہ ہوں، یا اصلاح یافتہ نہ ہوں۔ اصلاح اور دعوت دونوں کام ایک ساتھ کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی کام نہ مقدم ہے اور نہ مؤخر۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی اصلاح بھی اُسی وقت ہوتی ہے، جب کہ آدمی دوسروں کی اصلاح کی کوشش میں لگا ہوا ہو۔ اپنی اصلاح کوئی ایسا کام نہیں جو خلا میں انجام پائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues