sight, touch, taste, smell and hearing
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵
امت کی لازمی ذمے داری ہے کہ وہ نسل درنسل ہر زمانے کے لوگوں کے سامنے اُس دین کا پیغام پہنچاتی رہے، جو دین آپ خدا کی طرف سے لائے اور جو قیامت تک اسی حال میں محفوظ رہے۔ اس معاملے کی مزید تشریح ایک حدیث سے ہوتی ہے جس کو مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات: 768 ء) نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے دعوتی مشن کے بارے میں بھی فرمایا ہے اور خود اپنے بارے میں بھی۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ (623ء) کی ادائیگی کے بعد ایک دن اپنے اصحاب کے سامنے آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو، اللہ نے مجھ کو تمام دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم اس معاملے میں مجھ سے اختلاف نہ کرو، جیسا کہ مسیح کے حواریوں نے کیا تھا۔ آپ کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول، حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مسیح نے اپنے حواریوں کو اُس کام کی طرف بلایا جس کی طرف میں نے تم کو بلایا ہے، پس مسیح نے جس کو قریبی مقام پر جانے کے لیے کہا، وہ راضی رہا اور تیار ہوگیا اور جس کو دور کے مقام پر جانے کے لیے کہا تو اس نے ناگواری ظاہر کی اور وہ اُس پر گراں گزرا۔ اس کے بعد مسیح نے اللہ سے اس بات کی شکایت کی تو جو لوگ زبان کے فرق کی وجہ سے جانے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے وہ اس قوم کی زبان بولنے لگے جن کی طرف مسیح ان کو بھیج رہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مختلف سرداروں اور حاکموں کی طرف اپنی دعوت کے ساتھ روانہ کیا۔ ‘‘ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب کے سامنے آئے اور اس دعوتی کام کی طرف انھیں توجہ دلائی تو ان سے کہا کہ ’’اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمے داری کو ادا کرو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے‘‘۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 278)
زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے کسی انسان کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ وہ ایک ایسے کام کے لیے سرگرم ہو جو براہِ راست طور پر خدا کا کام ہو، جو گویا خداوند ذوالجلال کی نیابت ہے۔ یہ بلاشبہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues