قیامت کا بھونچال
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۱۳
قیامت کا بھونچال
راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج (God Arises) پہلی بار 1966 میں چھپی۔ اس میں دلیلِ آخرت (Argument for the Life Hereafter) کے باب کے تحت حسب ذیل سطریں درج تھیں:
"سب سے پہلا تجربہ جو ہم کو قیامت کے امکان سے باخبر کرتا ہے، وہ زلزلہ ہے۔ زمین کا اندرونی حصہ نہایت گرم سیال (hot semi-molten) کی شکل میں ہے۔ اس کا مشاہدہ آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوا کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ مادہ مختلف شکلوں میں زمین کی سطح کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات زمین کے اوپر زبردست گڑگڑاہٹ کی آواز محسوس ہوتی ہے اور کش مکش کی وجہ سے جھٹکے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کا نام زلزلہ ہے۔ یہ زلزلہ آج بھی انسان کے لیے سب سے زیادہ خوف ناک لفظ ہے۔ یہ انسان کے اوپر قدرت کا ایسا حملہ ہے جس میں فیصلے کا اختیار تمام تر دوسرے فریق کو ہوتا ہے۔ زلزلے کے مقابلے میں انسان بالکل بے بس ہے۔ یہ زلزلے ہم کو یاد دلاتے ہیں کہ ہم ایک سُرخ پگھلے ہوئے نہایت گرم مادے کے اوپر آباد ہیں، جس سے صرف پچاس کلومیٹر کی ایک پتلی سی چٹانی تہ (crust) ہم کو الگ کرتی ہے۔ یہ چٹانی تہ زمین کے مقابلے میں ویسی ہی ہے، جیسے سیب کے اوپر اس کا باریک چھلکا۔ ایک جغرافیہ داں کے الفاظ میں ہمارے آباد شہروں اور نیلے سمندروں کے نیچے ایک قدرتی جہنم (Physical Hell) دہک رہا ہے۔ گویا کہ ہم ایک عظیم ڈائنا مائٹ کے اوپر کھڑے ہوئے ہیں، جو کسی بھی وقت پھٹ کر سارے نظامِ ارضی کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ " (صفحہ 88)۔
45 سال پہلے یہ بات بطور امکان لکھی گئی تھی۔ اب یہ بات واقعہ بن چکی ہے۔ میڈیا میں ہر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues