Al-Risala · June 2008 · page 43

زندگی کا فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳

غلو پسندی کی ایک مثال ہے۔ حالاں کہ غلو اسلام میں نہیں (لا غلوّ فی الإسلام)۔ غلو در اصل انتہا پسندی کا دوسرا نام ہے۔ اور انتہا پسندی ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إنّ الله ليؤيد هذا الدين بالرّجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص اگر کسی پہلو سے ’’فاجر‘‘ ہو، تب بھی وہ کسی اور پہلو سے اسلام کے حق میں تائید کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم کو چاہیے کہ اگر کسی آدمی کی زندگی میں کوئی فجور کا پہلو ہو، تو اس پہلو سے اس کے لیے دعا کریں۔ اور اگر اس کی زندگی میں کسی اعتبار سے کوئی مفید پہلو ہو تو اس کا اعتراف کریں۔ یہی صحیح اسلامی اسپرٹ ہے۔ سوال عرض خدمت ہے کہ راقم نے ایک نہایت ہی اہم موضوع پر اپنی اولین تحقیقی کتاب بنام ’’قرآن عظیم کی آفاقیت اور اس کا فلسفہ کا ئنات‘‘ تصنیف کی ہے، جس کا مسودہ حاضر خدمت ہے۔ جیسا کہ سرورق سے عیاں ہے، اس کتاب میں خارج از زمین زندگی اور خود انسان اور کتاب الہی کی حقیقت پر جدید قرآنی بصائر کو منکشف کرتے ہوئے عالم انسانی پر قرآن مجید کے عظیم ترین علمی اعجاز کی نقاب کشائی کی کوشش کی گئی ہے۔ اس تحقیق کی عوامی سطح پر اشاعت سے قبل میں اس پر عالم اسلام کے چند منتخب اہل علم اور علمی و دینی مراکز کے تاثرات حاصل کرنا چاہ رہا ہوں، جن میں آں جناب کا نام نامی بھی شامل ہے۔ لہذا آں جناب سے میری مخلصانہ درخواست ہے کہ موضوع کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اولین فرصت میں اس پر اپنے گراں قدر تاثرات کا اظہار فرمایا جائے (سعید الرحمن ندوی، بنگلور)۔ جواب آپ کی کتاب (قرآن عظیم کی آفاقیت اور اس کا فلسفہ کا ئنات) کا مسودہ موصول ہوا۔ آپ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قرآن کی آفاقیت کا تعلق صرف موجودہ زمین پر آباد انسانوں سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق یکساں طور پر کائنات میں موجود دوسرے سیاروں پر آباد امکانی مخلوقات سے بھی ہے۔ قرآن ان مخلوقات کے لیے بھی کتاب ہدایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ عرض یہ کہ مجھے آپ کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page