Al-Risala · June 2008 · page 44

زندگی کا فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۴۴

اس نظریے سے اتفاق نہیں ہے۔ قرآن بلا شبہ ایک آفاقی کتاب ہے، لیکن اُس کی آفاقیت کا تعلق موجودہ سیارۂ زمین سے ہے، نہ کہ بقیہ کائنات میں دوسرے مفروضہ سیاروں سے۔ قرآن کی دعوتِ عام ہمارے اوپر فرض ہے، لیکن اِس کا تعلق موجودہ زمین پر بسنے والے انسانوں سے ہے، نہ کہ کائنات کے کسی اور سیارے پر آباد مفروضہ مخلوقات سے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ موجودہ سیارۂ زمین پر جو انسان آباد ہیں، اُن کو قرآن کا پیغام پہنچائیں، اُن کے لیے قرآن کی دعوت کو قابلِ فہم بنائیں اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل اختیار کریں۔ آپ نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے، وہ صرف ایک مفروضہ بحث ہے۔ اس کا تعلق نہ ہماری ذمے داری سے ہے، اور نہ کسی معلوم حقیقت سے۔ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ اپنے نظریات کی بنیاد مسلمات پر قائم کریں، نہ کہ مفروضات پر۔

آپ کے نظریات کو زیادہ سے زیادہ استنباط کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ استنباط کوئی معقول استنباط (valid inference) نہیں۔ کیوں کہ اصولِ استدلال کے مطابق، معقول استنباط وہ ہے جو کسی ثابت شدہ حقیقت پر قائم کیا گیا ہو۔ ایک ایسا واقعہ جو خود ثابت شدہ نہ ہو، اس کی بنیاد پر کوئی معقول استنباط نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page