Al-Risala · July 2008 · page 4

قربِ قیامت کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۴

حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت خود اپنے ذہن پر نظر ثانی کرنے کا ہے، نہ کہ سائنس کے مشاہدات پر شک کرکے ان کو نظر انداز کرنے کا۔ ان سائنسی مشاہدات پر بطور واقعہ شک نہیں کیا جا سکتا۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان سائنسی مشاہدات کی روشنی میں قرآن اور حدیث کی پیشین گوئیوں پر از سر نو غور کریں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بائبل کی پیشین گوئیوں کے مطابق، یہود، پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے منتظر تھے، مگر جب وہ آنے والا آيا تو وہ اس کے منکر بن گئے (البقرۃ: 89)۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے بطور خود آنے والے کی ایک مفروضہ تصویر اپنے ذہن میں بنا رکھی تھی ۔ چوں کہ آنے والا ان کی مفروضہ ذہنی تصویر پر بظاہر پورا نہیں اترتا تھا، اس لئے انھوں نے انتظار کے باوجود اس کا انکار کر دیا۔ لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ دوبارہ یہود والی غلطی نہ کریں۔ اور اپنے خود ساختہ ذہن پر نظر ثانی کر کے معاملے پر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ کیوں کہ اس طرح کے معاملے میں غلطی ہمیشہ نا قابل تلافی ہوتی ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت سے پہلے صرف ایک ہی واقعہ اپنی برہنہ صورت میں سامنے آئے گا، اور وہ فرشتہ اسرافیل کا صور پھونکنا ہے۔ اس ایک واقعہ کے سوا تمام دوسرے علامتی واقعات، التباس کے پردہ میں ظاہر ہوں گے۔ ان کو پہچاننے کا معاملہ ایک آزمائش کا معاملہ ہوگا، نہ کہ صور اسرافیل کی طرح بر ہنہ اظہار کا معاملہ۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ امتحان کی دنیا میں حقیقتیں اپنی برہنہ صورت میں سامنے نہیں آتیں ۔ حقیقتوں کا عیاناً سامنے آنا صرف اُس وقت ہوگا، جب کہ کشف ساق (القلم: 42) ہو جائے ۔ یہی خدا کا تخلیقی منصوبہ ہے۔ اگر خدا کا منصوبہ یہ ہوتا کہ حقیقت کو عیاناً دکھا دیا جائے، تا کہ اُس کو مان کر لوگ جنت میں داخل کیے جائیں، اگر ایسا ہوتا تو خدا، انسان جیسی مخلوق کو پیدا کر کے اس دنیا میں آباد نہ کرتا۔ ایسی حالت میں وہ صرف فرشتوں کو پیدا کرتا، تا کہ وہ حقیقتوں کو عیاناً دیکھیں اور پھر اُن کی شہادت دے کر ابدی جنتوں میں داخل کر دیے جائیں۔

حالیہ سائنسی تحقیقات کے حوالے سے الرسالہ میں جو مضامین شائع ہوئے ہیں، ان کے خلاف منفی ردِ عمل بلا شبہ انتہائی حد تک غیر علمی بھی ہے اور غیر مومنانہ بھی ۔ اس کو واضح کرنے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page