قربِ قیامت کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۵
کے لیے ہم چند حوالے یہاں نقل کرتے ہیں:
1۔ قرآن کی سورہ نمبر 42 میں دو آیتیں آئی ہیں۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور ترازو بھی۔ اور تم کو کیا خبر، شاید قیامت قریب ہو، جو لوگ قیامت کا یقین نہیں رکھتے، وہ اس کی جلدی کر رہے ہیں، اور جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں، وہ اُس سے ڈرتے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ بر حق ہے۔ یاد رکھو کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں بحثیں نکال رہے ہیں، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں“ (الشورى: 18-17)۔ اس آیت میں بتایا گیا تھا کہ قیامت قریب آگئی ہے۔ یہ آیت چودہ سو سال پہلے نازل ہوئی، مگر لمبی مدت گزرنے کے باوجود ابھی تک قیامت نہیں آئی۔ اس دوران کسی بھی عالم یا مفسر نے اس آیت میں دی جانے والی خبر پر شک کا اظہار نہیں کیا، بلکہ وہ اس سے خوف کی غذا لیتے رہے، اور سچے مومن کی یہی پہچان ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ قریب اور بعید کے نکتے نکال کر اس پر بحثیں کریں، ان کو قرآن میں واضح طور پر گمراہ قرار دیا گیا ہے۔
2۔ قرآن کی سورہ نمبر 21 میں ایک آیت وارد ہوئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: ”لوگوں کے لیے ان کا حساب نزدیک آ پہنچا۔ اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے اعراض برت رہے ہیں“ (الأنبياء: 1)۔ اس آیت کی تفسیر کے تحت، ایک صحابی کا واقعہ نقل کیا گیا ہے، جو اس طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص اپنے گھر کی دیوار بنا رہا تھا۔ اُس دن جس دن کہ یہ سورہ نازل ہوئی، ایک اور صحابی کا وہاں سے گزر ہوا۔ جو شخص دیوار بنا رہا تھا، اُس نے کہا: آج قرآن میں کیا اترا۔ دوسرے صحابی نے جواب دیا کہ: اقترب للناس حسابهم وهم في غفلة معرضون نازل ہوئی۔ یہ سن کر اُس صحابی نے تعمیر کا کام روک دیا، اور کہا کہ خدا کی قسم، اب میں کبھی اس دیوار کی تعمیر نہیں کروں گا، جب کہ حساب کا وقت قریب آگیا (والله لا بنيت أبداً وقد اقترب الحساب) القرطبي، جلد 11، صفحہ 266)
صحابی رسول کا ذہن اگر وہ ہوتا، جو اس معاملے میں آج کل کے لوگوں کا ذہن ہے، تو وہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues