قدیم حُنفاء
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶
باپ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ قاتل سے اس کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ وہ اپنے قبیلے کے بت ذُو الخلَصہ کے پاس گیا اور عرب رواج کے مطابق ، اُس نے فال نکال کر اس معاملے میں بت کی رائے معلوم کرنا چاہا کہ میں اپنے باپ کے قاتل کو قتل کروں یا نہ کروں ۔ جواب آیا کہ نہیں۔ اس پر امرء القیس غصے میں آ گیا اور اُس نے بت کو اپنی کمان سے مار کر کہا:
لو كنتَ یا ذا الخلص الموتورا مثلی، وکان شیخک المقبورا لم تنه عن قتل العُداةِ زُوراً یعنی اے ذو الخلصہ، اگر تیرے ساتھ ایسا ہوتا کہ تیرے بزرگ کو قتل کیا گیا ہوتا، تو ہرگز تو ایسی غلط بات نہ کہتا کہ مجرموں کو قتل نہ کیا جائے۔
قدیم حُنفاء
بنو اسماعیل کی یہ نسل جو ڈھائی ہزار سالہ صحرائی تربیت کے ذریعے بنی، وہ تاریخِ بشری میں ایک نئی نسل کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس نسل کی بڑی اکثریت ایسے عورتوں اور مردوں پر مشتمل تھی جو بنیادی طور پر اپنی فطرت پر قائم تھے، اور اس بنا پر وہ نئی بات کو قبول کرنے کی امتیازی صفت رکھتے تھے۔ ان میں ایک تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اس صفت میں نسبتاً زیادہ نمایاں تھے۔ یہ لوگ گویا کہ اپنی فطرت کے زور پر پچاس فی صد سچائی کو پہلے ہی پا چکے تھے۔ ان لوگوں کو قدیم عرب میں حُنفاء کہا جاتا تھا۔ حنیف یا حُنفاء سے مراد وہ انسان ہے جو متلاشی حق (truth seeker) ہو۔ قدیم عرب میں ایسے بہت سے لوگ تھے۔ اُنھیں میں سے ایک قُس بن ساعدہ (وفات: 600ء) تھے۔ ان کے اندر خطابت کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ اسی طرح ایک اور صاحب تھے، جن کا نام زید بن عمرو بن نُفیل (وفات: 606ء) تھا۔ وہ بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ: اللّهم إنّي لو أعلم أحبّ الوجوه إليك عبدتك به، ولكَنّی لا أعلم (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 154)۔ یعنی اے خدا، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کا بہتر طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اِس کو نہیں جانتا: O God, if I knew how you whished to be worshipped, I would so worship you; but I do not know.
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues