قدیم حُنفاء
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۷
انھیں حنفاء میں سے ایک ورقہ بن نوفل ( وفات : 611 تھے ۔ 610 ء میں جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی، تو اُس وقت وہ بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ مگر جب انھوں نے آپ کی زبان سے وحی کی بات سنی تو انھوں نے فوراً آپ کی تصدیق کی، تاہم اس کے چند مہینے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ ابو بکر بن ابی قحافہ بھی انھیں حنفاء میں سے ایک تھے، جنھوں نے کسی تردّد کے بغیر آپ کی دعوت کو قبول کر لیا ۔ نبوت سے پہلے خود محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بھی اسی قسم کے ایک حنیف کامل تھے، یعنی خالص حق کے متلاشی۔ قرآن کی سورہ نمبر 93 میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے : ووجدک ضالاً فهدى (الضحى : 7)۔
مؤرخین نے عام طورپر صرف تسلیم کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کا راز کیا تھا۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ آپ کو اعلیٰ کردار رکھنے والے جان دار ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد ملی، جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ یہ اصحابِ رسولِ بنی اسماعیل کے منتخب افراد تھے۔ اس قسم کی ٹیم اس سے پہلے کسی پیغمبر کو حاصل نہ ہوئی۔ ان میں سے ایک ایک آدمی گویا کہ ایک ہیرو تھا۔ یہ اعلیٰ افراد، سادہ طور پر محض ”صحبت“ کی بنا پر نہیں ملے، وہ دراصل اُس ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ خداوندی کا نتیجہ تھے جو ایک نئی نسل پیدا کرنے کے لیے حضرت ابراہیم اور ہاجرہ اور اسماعیل کی غیر معمولی قربانی کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا ۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ گروہِ اخراجِ امت (آل عمران : 110) کا تاریخی نتیجہ تھا، نہ کہ سادہ طور پر صحبت کا پر اسرار نتیجہ۔ اخوانِ رسول کا دور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم عصر اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: وددتُ أنا قد رأينا إخواننا۔ قالوا : أولسنا إخوانك يا رسول الله، قال: أنتم أصحابی، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحیح مسلم، کتاب الطهارة) یعنی میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں (اخوان) کو دیکھتے ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو، اور وہ ہمارے اخوان ہیں جو بعد کو آئیں گے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues