قدیم حُنفاء
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۸
جیسا کہ عرض کیا گیا، دورِ اوّل کے اصحاب رسول ایک لمبے تاریخی عمل کے ذریعے وجود میں آئے۔ اسی طرح دورِ ثانی کے اخوان رسول بھی ایک خصوصی تاریخی عمل کے ذریعے ظہور میں آنے والے لوگ ہیں۔ گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو دونوں گروہوں کے درمیان ظاہری فرق کے باوجود کامل مشا بہت پائی جاتی ہے۔
دورِ اوّل کے اصحاب رسول، بنو اسماعیل کی اُس نسل سے نکلے تھے جس کو تمدنی ماحول سے دور رکھ کر صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے عمل سے گزارا گیا، اور اس طرح متعصبانہ ذہن سے پاک کرکے اُن کو ان کی اصل فطرت پر لایا گیا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ دین فطرت کا پیغام سنیں اور کسی نفسیاتی پیچیدگی (complex) کے بغیر اس کو قبول کر لیں۔
موجودہ سائنسی دور بھی اسی قسم کا ایک دور ہے۔ اس زمانے میں دوبارہ عالمی سطح پر جدید نسلوں کی سائنسی ڈی کنڈیشننگ کی گئی۔ اس طرح ایسے لوگ تیار ہوئے، جو قدیم طرز کی روایتی سوچ سے آزاد تھے۔ وہ خالص فطرت کی سطح پر چیزوں کو سمجھ سکتے تھے۔ انھیں لوگوں کے لیے یہ مقدر کیا گیا تھا کہ وہ اسلام کو دوبارہ معرفت کی سطح پر پائیں اور انقلابی ذہن کے ساتھ اس کو قبول کر لیں۔ یہی بات موجودہ زمانے میں اس طرح ہوئی کہ جب دنیا میں سائنس کا تجرباتی متھڈ رائج ہوا، تو لوگ قدیم تصورات پر نظر ثانی کردیکھنے لگے۔ پہلے قیاس اور توہمات کی بنیاد پر رائیں قائم کی جاتی تھیں، اب تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے رائیں قائم کی جانے لگیں۔ اسی کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک متھڈ (sientific method) کہا جاتا ہے۔ اس سائنٹفک متھڈ کے رواج نے موجودہ زمانے میں قدیم انداز فکر کو بدل دیا، اور لوگ چیزوں کو سائنسی انداز میں از سر نو جانچ کرنے لگے۔ اسی واقعے کو ہم نے یہاں سائنسی ڈی کنڈیشننگ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔
یہ سائنسی ڈی کنڈیشننگ موجودہ زمانے کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اس کے نتیجے میں موجودہ زمانے میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی ہے، جس طرح قدیم عرب میں صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے ایک نئی نسل بنی تھی۔ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ روایتی بندشوں سے آزاد ہوکر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues