Isaac Newton — A Secret Faith
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹
سوچتے ہیں۔ اِسی بنا پر وہ کسی نئی سچائی کو سمجھنے کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ قدیم زمانے میں ایسا نہ تھا۔
ڈھائی ہزار سال پہلے صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے عرب میں ایسے لوگ پیدا ہوئے تھے، جو باپ دادا سے ملی ہوئی مذہبی روایات سے باہر آ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اِسی طرح موجودہ زمانے میں سائنسی ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے ایسے لوگ بڑی تعداد میں پیدا ہوئے، جو اپنے آبائی مذہب کے خول سے باہر آ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اِس طرح کے لوگ ساری دنیا میں پیدا ہوئے۔ مثال کے طور پر یہاں اِس قسم کے دو ممتاز مغربی افراد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اِن میں سے ایک مشہور سائنس داں سر آئزاک نیوٹن (وفات: 1727) تھا۔ وہ اگرچہ روایتی مسیحی خاندان میں پیدا ہوا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ مسیحیت کے روایتی خول سے باہر آ گیا۔ نیوٹن کے ایک سوانح نگار پیٹر (Peter Ackroyd) کی ایک کتاب اِس موضوع پر 2006 میں شائع ہوئی ہے۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے:
Isaac Newton — A Secret Faith
مصنف نے اِس کتاب میں نیوٹن کے بارے میں لکھا ہے:
Newton also believed that the true religion was derived from the sons of Noah, and had been transmitted by Abraham, Isaac and Moses. Pythagoras was a convert to this religion, and passed it on to his own disciples. Christ was a witness to that primitive faith in his simple commandments to love God and to love one's neighbor. In a later document Newton declared that we must worship 'the only invisible God' and venerate the 'one mediator between God & man the man Christ Jesus'. At the peril of our souls 'we must not pray to two Gods'. We must not worship Christ. Christ had been filled with divine spirit, but he was not God. (p. 54) دوسری مثال فرانس ہر برٹ بریڈلے (وفات: 1924) کی ہے۔ وہ مشہور برٹش فلسفی ہے۔ وہ بھی اِسی قسم کے افراد کی ایک مثال ہے، جو اگرچہ قدیم مذہبی روایات کے ماحول پیدا ہوئے،
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues