Isaac Newton — A Secret Faith
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰
لیکن سائنسی تعلیم اور سائنسی غور و فکر نے ان کو مجبور کیا کہ وہ قدیم روایتی خول سے باہر آ کر کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور بے آمیز سچائی کی تلاش کریں۔
فرانس ہر برٹ بریڈلے کی ایک کتاب (Appearance and Reality) ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1893 میں شائع ہوئی۔ اس نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ آج انسان کو ایک سائنٹفک مذہب (scientific religion) کی ضرورت ہے۔ قدیم روایتی طرز کا مذہب آج کے انسان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ بریڈلے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آج کے انسان کو ایسا مذہب چاہیے، جس کا پیغمبر نیوٹن ہو، اور جس کی مقدس کتاب پرنسپیا (Principia) ہو، یا یہ کہ اُس کا پیغمبر آئن سٹائن ہو، اور اُس کا الہیاتی نظریہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (General theory of relativity) ہو، بلکہ بریڈلے کا مطلب صرف یہ تھا کہ آج کے زمانے میں وہی مذہب انسان کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے جو سائنٹفک جانچ (scientific scrutiny) میں پورا اُترے۔
اِس قسم کے افراد میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی تلاش کی آخری منزل تک پہنچے۔ ان میں سے ایک مثال ڈاکٹر نِشی کانت چٹو پادھیائے کی ہے۔ وہ ایک بڑے ہندو اسکالر تھے۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ وہ بنگال کے ایک روایتی ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ بعد کو ان کی تعلیم نے ان کو پورے معنوں میں نان کنفارمسٹ (non-conformist) بنا دیا۔ انھوں نے آزاد ذہن کے تحت، مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے مختلف مذہبی شخصیتوں کو پڑھا۔ آخر میں اپنے کھلے ذہن کی بنا پر وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گئے کہ تمام مذہبی شخصیتیں غیر تاریخی شخصیتیں ہیں۔ ان میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔
اِس معاملے میں اپنے خیالات کے اظہار کے لیے انھوں نے 1904 حیدر آباد (انڈیا) میں ایک لیکچر دیا تھا۔ اِس لیکچر میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ دوسری تمام مذہبی شخصیتیں مائٹھو لاجکل فیگر (mythological figure) کی حیثیت رکھتی ہیں، اِس عموم میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ اِس بات کا ذکر کرتے ہوئے، انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues