عظیم ترین شہادت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۴
عظیم ترین شہادت
حدیث کی مشہور کتاب صحیح مسلم (کتاب الفتن، باب ذكر الدّجّال) میں چند روایتوں آئی ہیں۔ ان روایات میں بتایا گیا ہے کہ تاریخ کے آخری دور میں ایک دجّالی زمانہ آئے گا، یعنی پر فریب نظریات اور توجیہات کا زمانہ۔ لوگوں کی بڑی تعداد اُس سے مسحور ہو جائے گی۔ اُس وقت ایک شخص اُٹھے گا جس کے لیے حدیث میں "رجلٌ هو خیرا لناس" اور "رجل من المؤمنین" کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ شخص اُس وقت کے دجالی فتنے کا مقابلہ کر کے اس کا خاتمہ کرے گا۔ اور سچائی کا اظہار اس طرح کرے گا کہ لوگ دجالی فتنے سے باہر آکر سچائی کو پہچان سکیں۔ یہ تاریخ دعوت کا ایک عظیم معاملہ ہوگا۔ اسی بنا پر اس کو حدیثِ رسول میں : أعظم النّاس شهادةً عند رب العالمين سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی خداوندِ عالم کے نزدیک لوگوں کے سامنے حق کی عظیم ترین شہادت۔ عظیم ترین شہادت سے مراد، حق کا عظیم ترین اظہار ہے۔ حق کا یہ اظہار خود علم انسانی کی سطح پر ہوگا، جس کو سائنسی دور نے پہلی بار ممکن بنا دیا ہے۔ یہی وہ عظیم دعوتی واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں اس طرح کیا گیا ہے: سنریهم آياتنا فى الآفاق و فى أنفسهم حتى یتبین لهم أنّه الحق (حم السجدة : (53) یعنی آئندہ ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں (signs) دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ لوگوں پر پوری طرح کھل جائے کہ یہ حق ہے۔ مذکورہ حدیث کو سامنے رکھ کر اس معاملے پر غور کیجیے۔ اس سے معاملے کی جو تصویر بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے دورِ اوّل میں دعوتی عمل کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ایک عظیم واقعہ پیش آیا، ٹھیک وہی حالات آج دوبارہ پیدا ہو چکے ہیں۔ اور زمانی فرق کی رعایت کرتے ہوئے آج دوبارہ اُسی عمل کو دہرایا جائے گا اور پھر اس کا وہ مطلوب نتیجہ ظاہر ہوگا جس کی پیشگی خبر حدیثِ رسول میں دی جا چکی ہے، یعنی بصیرتِ زمانہ کا حامل ایک شخص اُٹھے گا۔ اس کو خدا کی خصوصی نصرت حاصل ہوگی۔ وہ زمانے کی مکمل رعایت کرتے ہوئے پیغمبرانہ اسلوب پر دعوتی عمل جاری کرے گا۔ اس دعوتی عمل کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ ایک طرف، وقت کے پر فریب نظریات کا پردہ چاک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues