کامیاب زندگی ، ناکام خاتمہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
کامیاب زندگی ، ناکام خاتمہ
ایک مغربی ملک کے ایک آدمی کو دولت کمانے کا شوق تھا۔ اس کا خیال تھا کہ دولت کے ذریعے وہ زندگی کی تمام خوشیاں حاصل کرسکتا ہے۔ اُس نے کافی دولت کمائی۔ اس نے اپنے لیے ایک شان دار گھر بنایا۔ ہر طرح کی راحت اور عیش کے سامان اپنے گرد اکٹھا کیے، لیکن حقیقی خوشی اس کو حاصل نہ ہوسکی، یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہوگیا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہوگئی، وہ بستر پر پڑگیا۔ اپنی زندگی کے اس آخری زمانے میں اُس نے اپنی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:
Now, I am 90 plus, bedridden. My story can be sum up in these two words— successful life, unsuccessful end. یہی اُن تمام لوگوں کی کہانی ہے جن کو لوگ اچیویر، یا سپر اچیویر کہتے ہیں۔ بڑی بڑی کامیابیوں والے اس دنیا میں صرف چھوٹی خوشی حاصل کرتے ہیں اور آخر کار مایوسی کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ اتنا عام ہے کہ اس میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ انڈیا میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والوں میں سے ایک مشہور نام لتا منگیشکر کا ہے۔ وہ اب 80 سال کی ہوچکی ہیں۔ ان کو اپنی زندگی میں وہ تمام چیزیں ملیں جن کی لوگ حرص کرتے ہیں۔ دولت، شہرت، مقبولیت اور اعلیٰ خطابات، وغیرہ۔ انھوں نے عالمی سطح پر شاپنگ کی۔ بہت زیادہ جیولری اور جواہرات حاصل کیے۔ ہر وہ چیز اُن کے پاس ہے جس کی دنیا پرست لوگ تمنا کرتے ہیں۔ لیکن عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر وہ محسوس کرتی ہیں کہ انھوں نے جو کچھ چاہا تھا، وہ اُن کو نہیں ملا۔ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (30 ستمبر 2007) میں لتا منگیشکر کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ انٹرویو کا نام سُدیشنا (Sudeshna Chatterjee) ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق ، لتا منگیشکر تمام ظاہری کامیابیوں کے باوجود افسردگی کے احساس (dejected feeling) میں جیتی ہیں۔ یہ انٹرویو اخبار کے ضمیمہ (Times Life) میں اس عنوان
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues