‘My dreams have not got fulfilled’.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷
کے تحت چھپا ہے — میرے خواب کبھی پورے نہیں ہوئے:
‘My dreams have not got fulfilled’.
ٹرویو لینے لتا منگیشکر سے پوچھا کہ اگر خدا اُن سے پوچھے کہ عمر کے اس حصے میں پہنچ کر ان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوگی۔ اُنھوں نے کسی وقفے کے بغیر فوراً جواب دیا کہ — میری صرف یہ خواہش ہوگی کہ میں اس دنیا کو چھوڑ کر چلی جاؤں:
I would like to leave this world. (p. 3)
کامیاب انسانوں کی اس ناکام کہانی میں ہر عورت اور مرد کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ جس پُرمسرت زندگی کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنی ساری عمر لگا دیتے ہیں، وہ اس دنیا میں سرے سے قابل حصول (achievable) ہی نہیں۔
تمنا کا ہونا، مگر تمنا کے حصول کا فقدان ان ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے، وہ یہ کہ آدمی جس چیز کو قبل از موت (pre-death period) دنیا میں پانا چاہتا ہے، اس کو خالقِ کائنات نے بعد از موت (post-death period) دنیا میں رکھ دیا ہے۔
ایسی حالت میں سب سے بڑی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بعد از موت دنیا میں کامیابی کا مستحق بنائے۔ وہ موجودہ عارضی زندگی کو بعد کی ابدی زندگی کی تیاری میں لگا دے۔ انسان پیدائشی طور پر معیار پسند (idealist) ہے، لیکن موجودہ دنیا میں ہر چیز معیار سے کم (less than ideal) حالت میں پائی جاتی ہے۔ یہی لوگوں کے ٹینشن (tension) کا اصل سبب ہے۔ انسان اپنی پوری توانائی صرف کر کے جو کچھ حاصل کرتا ہے، وہ ہمیشہ اس کے اپنے مطلوب معیار سے کم ہوتا ہے۔
طلب اور مطلوب کے درمیان اس فرق کو جاننا ہی سب سے بڑی دانش مندی ہے۔ جو آدمی اس فرق کو جانے، وہ اپنے عمل کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرے گا، اور پھر کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے گا۔ ایسا انسان کبھی ٹینشن میں جینے ولا انسان نہیں ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues